سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کی عارضی بندش اور سیکیورٹی وجوہات کے باعث پروازوں کی وسیع پیمانے پر معطلی نے خلیجی خطے سمیت دنیا بھر میں فضائی سفر کو سنگین تعطل سے دوچار کر دیا ہے۔ سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے فیصلے کے تحت ریاض ایئرپورٹ پر پروازوں کی بندش میں 17 اکتوبر تک توسیع کر دی گئی ہے، جس کے براہ راست اثرات مقدس سفر پر روانہ ہونے والے عمرہ زائرین اور خلیجی ممالک میں مقیم تارکین وطن ملازمین پر پڑے ہیں۔ پروازوں کے تعطل کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات اور جنوبی ایشیائی ممالک میں نئی بکنگز میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ پہلے سے طے شدہ منصوبے غیر یقینی کا شکار ہو چکے ہیں۔
بنگلہ دیش اور بھارت جیسے ممالک میں اس بندش کے اثرات بڑے پیمانے پر سامنے آئے ہیں جہاں سے روزانہ ہزاروں زائرین اور ملازمین خلیج کا سفر کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش سول ایوی ایشن کے مطابق ڈھاکہ سے چلنے والی 86 سے زائد براہ راست اور رابطہ پروازیں معطل ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے ساڑھے تیرہ ہزار سے زائد مسافر ہوائی اڈوں اور ٹرانزٹ مراکز پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔ صورت حال کے پیش نظر بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز نے ڈھاکہ سے ریاض اور دمام کے لیے اپنا آپریشن عارضی طور پر روک دیا ہے۔ ایجنسیوں کے ذریعے بکنگ کرانے والے زائرین کو ہنگامی بنیادوں پر متبادل ایئرلائنز میں منتقل کیا جا رہا ہے، جس کے باعث یکطرفہ ٹکٹوں کی قیمتیں دوگنی ہو چکی ہیں اور مسافروں پر شدید مالی بوجھ آن پڑا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں بھی عمرہ کے سیزن کو دھچکا لگا ہے، جہاں عام طور پر اکتوبر سے جنوری کے دوران زائرین کی بڑی تعداد حرمین شریفین کا رخ کرتی ہے۔ دبئی اور شارجہ کے ٹریول آپریٹرز کا کہنا ہے کہ خطے میں پیدا شدہ کشیدگی اور حملوں کے بعد فضائی سروسز معطل ہونے کے خدشات نے لوگوں کو نئے سفر کے منصوبے ملتوی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب صرف انتہائی ناگزیر صورتوں میں سفر کیا جا رہا ہے جبکہ بیشتر خاندان حالات کے معمول پر آنے کے منتظر ہیں۔ بعض قافلوں کو واپسی کے لیے طویل زمینی مسافت طے کر کے بحرین یا دیگر قریبی محفوظ فضائی راستوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے جس سے وقت اور مالی وسائل دونوں کا زیاں ہو رہا ہے۔
ہندوستان سمیت بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے بھی مسافروں کے تحفظ کے پیش نظر اپنے شیڈول میں ہنگامی تبدیلیاں کی ہیں۔ ایئر انڈیا نے ریاض، جدہ اور دمام کے لیے اپنی تمام پروازیں 17 اکتوبر تک منسوخ کرنے کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے مسافروں کو ٹکٹ کی مکمل رقم واپس لینے یا بلامعاوضہ تاریخ تبدیل کرنے کی رعایت دی ہے۔ انڈیگو اور آکاسا ایئر نے بھی مخصوص سعودی روٹس پر آپریشن محدود کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر ایئر فرانس کے ایل ایم نے ریاض کے لیے اپنی پروازوں کی معطلی اکتوبر کے اختتام تک بڑھا دی ہے، جبکہ اتحاد ایئرویز اور لفتھانزا نے بھی سعودی عرب کے مختلف روٹس پر پروازوں کی منسوخی کے الگ الگ شیڈول جاری کیے ہیں۔
اگرچہ جدہ اور مدینہ منورہ کے لیے بعض پروازیں متبادل راستوں کے طور پر محدود پیمانے پر فعال ہیں، تاہم ریاض کے مرکزی حب کی بندش نے فضائی حدود اور کنیکٹنگ ٹریفک پر شدید دباؤ پیدا کر دیا ہے۔ ایوی ایشن ماہرین اور حج و عمرہ آپریٹرز کا ماننا ہے کہ شیڈول کی اس اچانک تبدیلی سے نہ صرف مقدس سفر پر نکلنے والے مسلمانوں کی عبادات کا تسلسل متاثر ہوا ہے بلکہ ٹریول انڈسٹری، ہوٹلنگ اور ایوی ایشن سیکٹر کو بھی بھاری مالی نقصان پہنچ رہا ہے۔ ویزا کی محدود مدت اور ملازمت کے معاہدوں کی ڈیڈلائنز کے باعث پھنسے ہوئے شہریوں کے مسائل کو کم کرنے کے لیے قونصلر سطح پر بھی رابطے بڑھائے جا رہے ہیں۔
موجودہ غیر مستحکم صورت حال میں ایئرلائنز اور سیکیورٹی ادارے صورت حال کا روزانہ کی بنیاد پر ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔ ٹریول ایجنسیوں نے زائرین اور مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہوائی اڈے کا رخ کرنے سے قبل متعلقہ فضائی کمپنی سے اپنی پرواز کی حتمی تصدیق لازمی کر لیں تاکہ غیر ضروری پریشانی سے بچا جا سکے۔




