سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا پر مبینہ توہین آمیز تبصرے کے الزام میں قید 24 سالہ سری لنکن تارک وطن انجینئر انوجن سیواراسا کی سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ سعودی اعلیٰ ترین عدالت نے اس فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے مقدمے کو دوبارہ سماعت کے لیے متعلقہ ماتحت عدالت میں واپس بھیج دیا ہے۔ سری لنکن حکومت نے بدھ کے روز باضابطہ طور پر اس پیش رفت کی تصدیق کی اور اسے طویل سفارتی و قانونی جدوجہد کے بعد ایک بڑی راحت قرار دیا۔
سری لنکا کے نائب وزیر خارجہ ارون ہیما چندرا نے تصدیق کی کہ سعودی سپریم کورٹ نے 13 اکتوبر 2026 کو سزائے موت کالعدم کرنے کا حکم جاری کیا۔ دارالحکومت ریاض بھیجے گئے سری لنکن قانونی وفد کے سینئر وکیل اور پریزیڈنٹ کونسل اپل کمارا پیروما کے مطابق، ماتحت عدالت آئندہ دو ہفتوں کے اندر اس مقدمے پر دوبارہ کارروائی شروع کرے گی، جہاں ملزم کو نئی سزا سنائے جانے کا قوی امکان ہے۔ سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے متاثرہ خاندان اور پوری قوم کو گہرا سکون ملا ہے، اور یہ پیش رفت قانونی عمل کے احترام اور سنجیدہ سفارت کاری کی کامیابی کا ثبوت ہے۔
مقدمے کی تفصیلات کے مطابق، جون کے آخر میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مذہبی موضوع پر بحث شروع ہوئی تھی۔ اسی بحث کے دوران سیواراسا نے تامل زبان میں ایک ایسا تبصرہ کیا جسے توہین آمیز قرار دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے بعد میں تبصرہ حذف کر دیا اور معافی کی ویڈیو بھی جاری کی، تاہم جولائی میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
ابتدائی طور پر الاحساء کی فوجداری عدالت نے انہیں پانچ سال قید اور 30 لاکھ سعودی ریال جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں اپیل کورٹ نے سزائے موت سنائی، جسے اب سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا ہے۔
اپیل کورٹ کے فیصلے کے بعد سری لنکا حکومت نے سعودی عرب کے ساتھ اعلیٰ سطحی سفارتی روابط قائم کیے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے بھی سزائے موت پر نظرثانی کی اپیلیں کیں۔




