دہلی SIR میں مسلمانوں کو غیر متناسب طور پر نشانہ بنانے کا انکشاف : رپورٹ

دہلی میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے دوران مسلم رائے دہندگان کو غیر متناسب طور پر خامیوں کے زمرے میں ڈال کر نوٹسز کے لیے نشان زد کیے جانے کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔ روزنامہ دی ہندو کی ایک مفصل تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مرکزی سافٹ ویئر ای آر او نیٹ نے دہلی کے جن لاکھوں ووٹروں کو منطقی غلطیوں کے تحت مشکوک قرار دیا ہے، ان میں مسلم آبادی کا تناسب ان کی کل آبادی کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر زیادہ پایا گیا ہے۔ اس پیش رفت نے اقلیتی طبقے کے بنیادی حق رائے دہی اور انتخابی تصدیق کے شفاف طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

دہلی کے مسودہ انتخابی فہرست میں شامل 97.54 لاکھ ووٹروں میں مسلمانوں کا حصہ 13.6 فیصد ہے، لیکن سافٹ ویئر کی جانب سے جن ووٹروں کو منطقی خرابیوں کی بنیاد پر نشان زد کیا گیا ان میں مسلمانوں کی شرح 20.3 فیصد پائی گئی۔ یہ عدم توازن خاندان کے حجم، والدین اور بچوں کی عمر کے درمیانی فرق جیسے پانچ معیارات میں مزید شدید شکل اختیار کر گیا۔ ان مخصوص خاندانی معیارات کے تحت جن 6.75 لاکھ رائے دہندگان پر اعتراضات لگائے گئے، ان میں 30 فیصد مسلمان تھے، جو کہ ان کے مجموعی انتخابی تناسب سے دگنے سے بھی زائد ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ہر ایک ہزار مسلم ووٹروں میں سے 318 افراد کو کسی نہ کسی خامی کے تحت نشان زد کیا گیا، جبکہ غیر مسلم آبادی میں یہ شرح فی ہزار 197 رہی۔

سب سے تشویشناک صورت حال ان معاملات میں دیکھی گئی جہاں خاندان کے سائز اور رشتوں کی بنیاد پر چھان بین کی گئی۔ ایسے تمام کیسز جہاں چھ یا اس سے زیادہ رائے دہندگان نے ایک ہی فرد کو اپنا والد یا والدہ ظاہر کیا تھا، ان میں 58 فیصد ووٹر مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی طرح والدین اور بچوں کے درمیان عمر کا فرق پچاس سال سے زیادہ یا پندرہ سال سے کم ہونے، دادا دادی اور پوتے پوتیوں کے درمیان چالیس سال سے کم کا فرق ہونے، یا بھائی بہنوں کی پیدائش میں نو ماہ سے کم کا فاصلہ پائے جانے جیسے معیارات نے مسلم طبقے کو بری طرح متاثر کیا۔ ماہرین نے نشان دہی کی ہے کہ کمیشن کا یہ الگورتھم آبادیاتی تبدیلیوں اور زمینی حقیقتوں کو نظر انداز کر رہا ہے، جبکہ قومی خاندانی صحت سروے کے مطابق پچھلی تین دہائیوں میں مسلم خواتین کی شرح پیدائش میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے۔

اس پوری کارروائی کا قانونی اور انتظامی پہلو بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ ووٹروں کو نشان زد کرنے کا یہ فیصلہ زمینی سطح پر تعینات الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز نے نہیں کیا، جو قانوناً انتخابی فہرستوں کی درستی کے ذمہ دار ہوتے ہیں، بلکہ یہ کام ایک خودکار مرکزی سافٹ ویئر کے سپرد کر دیا گیا۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے اب تک نہ تو ان تکنیکی معیارات کی کوئی پبلک وضاحت جاری کی ہے اور نہ ہی یہ واضح کیا ہے کہ آیا نوٹس ملنے سے کسی ووٹر کا ووٹ دینے کا حق براہ راست متاثر ہوگا یا نہیں۔ مغربی بنگال اور دہلی کے بعد اب تیسرے مرحلے کے تحت ان قواعد کا اطلاق کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کے قانونی تحفظ اور شفافیت پر گہرے تحفظات پیدا ہو رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے علمبردار اور قانونی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ انتخابی فہرستوں کی درستی کے نام پر کسی مخصوص طبقے کو سافٹ ویئر پر مبنی پیچیدگیوں میں الجھانا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اگر رائے دہندگان کو اپنا نام برقرار رکھنے کے لیے پیچیدہ دفتری کارروائیوں اور ثبوتوں کے طویل چکر میں ڈال دیا جائے تو اس سے بڑی تعداد میں غریب اور پسماندہ شہری اپنے آئینی حق سے محروم ہو سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس الگورتھم کی بنیاد کو فوری طور پر عوامی سطح پر واضح کرے اور تمام شہریوں کے جمہوری حقوق کے یکساں تحفظ کو یقینی بنائے۔

شیئر کریں۔