نئی دہلی : اپوزیشن اور عوام کے احتجاجی مظاہروں کی سیاسی گرما گرمی کے درمیان مرکزی وزارتِ داخلہ کی جانب سے ایک اہم اور بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ دہلی پولیس کے کمشنر انوراگ کمار کی جانب سے جاری کردہ تازہ حکم نامہ کے مطابق قومی راجدھانی میں مظاہرے منعقد کرنے کی نوٹیفائیڈ فہرست میں سے تاریخی مقام ‘جنتر منتر’ کو ہٹا دیا گیا ہے۔ اب اس کی جگہ شہریوں کے لیے احتجاج اور دھرنوں کی خاطر تین نئے متبادل مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
دہلی پولیس کے نوٹیفکیشن کے مطابق جنتر منتر کی جگہ اب مرکزی دہلی کا تاریخی رام لیلا میدان، شمالی دہلی کا براڑی گراؤنڈ اور مشرقی دہلی کا سی بی ڈی گراؤنڈ بطور احتجاجی مقام مقرر کیے گئے ہیں۔ ان مقامات پر پروگرام، دھرنا اور مظاہرے منعقد کرنے کی خاطر اجازت ناموں اور شرائط سے متعلق جلد ہی الگ سے ایس او پی (SOP) جاری کی جائے گی۔
واضح رہے کہ یہ قدم وزارتِ داخلہ کی تشکیل کردہ کمیٹی کی سفارشات اور سپریم کورٹ کی سابقہ ہدایات کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے۔ جنتر منتر سال 1993ء سے دہلی میں سیاسی و عوامی مظاہروں کا بنیادی مرکز رہا ہے، جو کہ 1988ء میں بوٹ کلب پر کسان تحریک کے بعد قائم کیا گیا تھا۔ تاہم حالیہ عرصے میں پیدا ہونے والی انتظامی دشواریوں اور سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد اب 33 سال پرانے اس مقام کے بجائے تین نئے مقامات پر ہی دھرنے کی اجازت ہوگی۔




