نئی دہلی : ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے متنازع فیصلے کے خلاف اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا’ (INDIA) نے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو مزید تیز کر دیا ہے۔ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی قیادت میں اپوزیشن رہنماؤں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور کمیشن کے اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کے خلاف ایک زبردست احتجاجی مارچ نکال کر سپریم کورٹ میں باضابطہ درخواست دائر کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق نئی دہلی میں بارہ کھمبا روڈ سے شروع ہونے والے اس احتجاجی مارچ میں ہزاروں کارکنان اور اہم اپوزیشن رہنماؤں نے شرکت کی۔ مارچ کے دوران پولیس نے بھگوان داس روڈ پر شدید بیریکیڈنگ کر کے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی، جہاں دہلی پولیس، نیم فوجی دستوں اور اتر پردیش پولیس کے اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات تھی۔ اس کے باوجود راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو اور دیگر قائدین نے آگے بڑھتے ہوئے اعلیٰ ترین عدالت تک رسائی حاصل کی اور عرضی درج کروائی۔
سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اس اہم درخواست میں الیکشن کمیشن آف انڈیا، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کو فریق بنایا گیا ہے۔ سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی کے ساتھ عدالت پہنچنے والے اپوزیشن رہنماؤں نے ایس آئی آر کے عمل کی قانونی حیثیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے مطابق، درخواست میں عدالت سے اپیل کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں کی اس خصوصی گہری نظرثانی کے فیصلے کو غیر معتبر قرار دیا جائے اور کمیشن کے اختیارات کی قانونی حد بندی کی جائے۔ اعلیٰ ترین عدالت میں درخواست کی باضابطہ رجسٹریشن کے بعد اپوزیشن رہنما احاطے سے روانہ ہوئے اور مارچ کا اختتام عمل میں آیا۔




