بھٹکل (فکروخبرنیوز) حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی حیات، علمی و ادبی خدمات اور ملتِ اسلامیہ کے لیے ان کی گراں قدر کوششوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے فکروخبر کو زیر اہتمام منعقدہ آن لائن زوم پروگرام میں علماء نے ان کی ہمہ جہت شخصیت، علمی عظمت، تربیتی اسلوب اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کے استحکام کے لیے انجام دی گئی خدمات کو یاد کیا۔
رکن شوریٰ ندوۃ العلماء لکھنو مولانا محمد الیاس ندوی نے اپنے صدارتی خطاب میں مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کے شاگرد اپنے بچوں اور شاگردوں کے سامنے فخر کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے مولانا سعید الرحمن صاحب کو دیکھا ہے۔ ان کے بقول، مولانا ایسی جامع شخصیت کے مالک تھے جن کی زندگی علمی وقار، اصول پسندی، وقت کی پابندی اور شفقت و محبت کا حسین امتزاج تھی۔
انہوں نے کہا کہ مولانا اپنے وقت اور اصولوں کے بڑے پابند تھے، لیکن نجی زندگی میں حد درجہ شفیق تھے۔ خصوصی مجالس میں اپنے شاگردوں سے بڑی خوش دلی اور بے تکلفی کے ساتھ ملاقات کرتے اور انہیں اپنی بے پناہ شفقتوں سے نوازتے تھے۔ ان کا یہ تربیتی انداز شاگردوں کے لیے محبت، اعتماد اور تعلق کا ذریعہ تھا۔
مولانا محمد الیاس ندوی نے مجلہ ’’البعث الاسلامی‘‘ کے لیے مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس علمی و فکری مجلے کے ذریعے عالمِ اسلام میں جو فکری انقلاب برپا ہوا، اس میں مولانا کے اداریوں کا اہم کردار رہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی علمی مجلے کا طویل عرصے تک جاری رہنا اور اس کے ذریعے فکری رہنمائی کا سلسلہ برقرار رکھنا بڑی بات ہے، جبکہ مولانا نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ اس ذمہ داری کے لیے وقف کیا۔
انہوں نے مولانا کی عبادت گزاری اور مصروف زندگی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ تہجد کی پابندی، قرآن کریم کی تلاوت، دارالعلوم ندوۃ العلماء کے اہتمام کی ذمہ داریاں، مجلہ ’’البعث الاسلامی‘‘ کی ادارت اور ان تمام مصروفیات کے باوجود عصر کی نماز کے بعد بچوں کے لیے وقت نکالنا ان کی غیرمعمولی شخصیت کی نمایاں مثالیں ہیں۔
مہتمم جامعہ اسلامیہ بھٹکل مولانا مقبول احمد ندوی نے بھی مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی علمی، انتظامی اور ملی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’’البعث الاسلامی‘‘ کے ذریعے برپا ہونے والے فکری انقلاب کو مدتوں یاد رکھا جائے گا اور نئی نسل بھی اس علمی و فکری سرمایہ سے ضرور فائدہ اٹھائے گی۔
انہوں نے دارالعلوم ندوۃ العلماء کے اہتمام، مسجد کی ذمہ داریوں اور ادارے کے مالی استحکام کے لیے مولانا کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ خدمات ناقابلِ بیان ہیں۔ مولانا مقبول احمد ندوی نے کہا کہ انہوں نے خود مولانا کو گرمیوں اور سردیوں کے موسم اور سفر کی مشقتوں کی پروا کیے بغیر مختلف ملکوں کا سفر کرتے دیکھا، تاکہ ندوہ کے مالی استحکام کے لیے کوششیں کی جاسکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی خدمات صرف ندوۃ العلماء تک محدود نہیں تھیں، بلکہ وہ ندوہ سے وابستہ اداروں کے ساتھ دیگر مدارس کے لیے بھی تعاون اور سفارش کرتے تھے۔ ان کی یہ وسعتِ نظر قابلِ قدر تھی کہ وہ صرف اپنے ادارے کے لیے نہیں، بلکہ دوسرے دینی اداروں کے مالی استحکام کے لیے بھی فکر مند رہتے تھے۔
مولانا مقبول احمد ندوی نے بھٹکل کے ساتھ مولانا کے گہرے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مولانا متعدد مرتبہ بھٹکل تشریف لائے اور جامعہ اسلامیہ سمیت یہاں کے دیگر اداروں میں بنفسِ نفیس شرکت کی۔ ان مواقع پر علماء، عمائدین اور عوام کو ان سے استفادہ کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا اہلِ بھٹکل سے بڑی محبت کا اظہار کرتے تھے اور ان کے ساتھ ان کا گہرا تعلق تھا۔
پروگرام میں مولانا اسعد ندوی نے مولانا سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی یاد میں مرثیہ پیش کیا، جبکہ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا عارف ندوی نے بھی ان کے تعلق سے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔
پروگرام کا آغاز فکروخبر کے رفیق مولانا رضوان احمد ندوی کی تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا، جبکہ نظامت کے فرائض فکروخبر کے رفیق مولانا عتیق الرحمن ندوی نے انجام دیے۔




