شمال مشرقی دہلی میں پیش آنے والے فروری 2020 کے فسادات سے جڑے مبینہ سازش کے مقدمے میں دہلی پولیس نے اسٹوڈنٹ لیڈر شرجیل امام کو ملی عبوری ضمانت منسوخ کرانے کے لیے دارالحکومت کی ایک مقامی عدالت سے رجوع کیا ہے۔ پولیس کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ عارضی رہائی کے دوران شرجیل امام نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کر کے عدالتی ضمانت کی شرائط کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ کڑکڑڈوما کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپئی کی عدالت میں دائر اس درخواست پر فوری سماعت کی استدعا کی گئی ہے۔
دہلی پولیس نے اپنی عرضی میں موقف اختیار کیا ہے کہ ملزم کو اپنے دو چچا زاد بھائیوں کی شادی کی تقریبات میں شرکت کی غرض سے 4 اکتوبر سے 10 اکتوبر تک کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عارضی راحت دی گئی تھی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ رہائی کے دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کر کے عدالتی چھوٹ کا بے جا فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ عرضی میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ شرائط کی خلاف ورزی کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ضمانت کے آرڈر کو منسوخ کیا جائے، کیونکہ عام طور پر ایسے حساس مقدمات میں ضمانت دیتے وقت ملزم کو عوامی بیانات یا میڈیا پر مقدمے سے متعلق تبصرہ کرنے سے روکا جاتا ہے۔
شرجیل امام، جو جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر رہے ہیں، متنازع شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور این آر سی کے خلاف ملک گیر جمہوری تحریک کے دوران طلبہ اور مسلم نوجوانوں کی ایک نمایاں آواز بن کر ابھرے تھے۔ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں پھوٹ پڑنے والے فسادات کے بعد دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے ایک نام نہاد ‘بڑی سازش’ کا مقدمہ قائم کیا، جس کے تحت سخت گیر قانون یو اے پی اے اور دیگر سنگین دفعات کے تحت شرجیل امام کو اگست 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں عمر خالد، خالد سیفی اور طاہر حسین سمیت متعدد مسلم رہنماؤں اور جہدکاروں کو بھی پابندِ سلاسل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل شرجیل امام کو مارچ کے مہینے میں اپنے بھائی کی شادی میں شامل ہونے کے لیے بھی دس روزہ عبوری ضمانت دی گئی تھی۔
شہری حقوق کے قانونی ماہرین اور اقلیتی تنظیمیں طویل عرصے سے یہ نکتہ اٹھاتی رہی ہیں کہ یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کے تحت مسلم نوجوانوں اور دانشوروں کو برسوں تک بغیر ٹرائل کے جیلوں میں رکھنا بنیادی انسانی حقوق اور عدالتی انصاف کے مسلمہ اصولوں کے منافی ہے۔ خاندانی تقریبات کے لیے ملنے والی چند روزہ عارضی ریلیف پر بھی پولیس کی فوری عدالتی چارہ جوئی اور کڑی نگرانی کے اس رویے کو قانونی حلقوں میں انتہائی غیر معمولی اور سخت گیر نقطہ نظر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس معاملے پر کڑکڑڈوما عدالت کے روبرو دفاعی وکلاء کی جانب سے اپنا تفصیلی موقف پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس میں یہ واضح کیا جائے گا کہ آیا کسی غیر رسمی گفتگو کو عدالتی شرائط کی خلاف ورزی قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ عدالت کی جانب سے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد سامنے آنے والا فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ شرجیل امام کی آئندہ قانونی چارہ جوئی اور باقاعدہ ضمانت کی کوششوں پر اس اقدام کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔




