کلبرگی میں مسجد کی چھت پر شراب نوشی کرنے والا کانسٹیبل معطل

ریاست کرناٹک کے ضلع کلبرگی میں مذہبی مقام کے تقدس کو پامال کرنے اور فرائض میں سنگین غفلت برتنے کے الزام میں ایک پولیس کانسٹیبل کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ سخت تادیبی کارروائی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کے تیزی سے وائرل ہونے کے بعد عمل میں لائی گئی، جس میں کمل پورہ تعلقہ کے گاؤں ہرسورو کی ایک مسجد کی چھت پر پولیس وردی میں ملبوس اہلکار مبینہ طور پر شراب نوشی کرتا ہوا دیکھا گیا۔ معطل کیے گئے اہلکار کی شناخت ہنومنتھا کے طور پر ہوئی ہے، جو مہاگاؤں پولیس اسٹیشن میں تعینات تھا۔

مقامی ذرائع اور پولیس کے بیانات کے مطابق، ہرسورو گاؤں میں پیش آنے والے ایک تنازع کے بعد نظم و نسق بحال رکھنے اور کشیدگی کو روکنے کے لیے پولیس کی نفری تعینات کی گئی تھی، جس میں کانسٹیبل ہنومنتھا بھی شامل تھا۔ حفاظتی ڈیوٹی انجام دینے کے بجائے اہلکار نے مسجد کی چھت پر جا کر شراب نوشی شروع کر دی، جسے گاؤں کے مکینوں نے اپنے موبائل کیمروں میں محفوظ کر لیا۔ ویڈیو منظرِ عام پر آتے ہی مسلم برادری سمیت تمام انصاف پسند حلقوں میں شدید بے چینی اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، جس کے بعد پولیس کے اعلیٰ حکام نے معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا۔

ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران کانسٹیبل کی جانب سے ڈیوٹی پر شراب نوشی اور مسجد کے تقدس کو پامال کرنے کے شواہد کی تصدیق ہونے پر کلبرگی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) اڈورو سرینواسولو نے مذکورہ اہلکار کو فوری اثر سے معطل کرنے کا باضابطہ حکم جاری کیا۔ ایس پی نے واضح کیا کہ پولیس فورس میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کسی بھی حرکت کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

مذہبی مقامات، بالخصوص مساجد کا احترام ہر شہری اور بالخصوص امن و امان کے محافظوں پر لازمی ہے۔ ایک حساس علاقے میں تعیناتی کے دوران محافظ کا خود اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز حرکت کرنا نہ صرف مقامی امن کے لیے خطرہ تھا بلکہ مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کے مترادف تھا۔ مسلم تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے اس حرکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ محض معطلی پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ مذہبی جذبات مجروح کرنے کے تحت باقاعدہ فوجداری مقدمہ درج کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔

ضلع کلبرگی میں پولیس عملے کے خلاف سخت کارروائی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ حالیہ دنوں میں آلند پولیس اسٹیشن کے ایک انسپکٹر اور تین کانسٹیبلوں کو ضبط شدہ سرکاری راشن چاول کے غیر قانونی ٹرک کو بغیر ایف آئی آر کے چھوڑنے اور رشوت ستانی کے الزام میں معطل کیا گیا تھا، جبکہ حساس دفتری معلومات افشا کرنے پر بھی متعدد اہلکاروں کے خلاف کارروائیاں کی گئی تھیں۔

ضلعی پولیس انتظامیہ نے واقعے کی باضابطہ محکمانہ تفتیش شروع کر دی ہے اور اعلیٰ افسران کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ملزم اہلکار کے خلاف تادیبی قوانین کے تحت مزید سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔

شیئر کریں۔