بنگلورو (فکروخبرنیوز) کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے اپارٹمنٹ ایسوسی ایشنز کی جانب سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو اپنے احاطے میں تربیتی و تعارفی پروگرامات منعقد کرنے کی اجازت دینے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا رہائشی سوسائٹیوں کو کسی مخصوص نظریے کی اشاعت اور بچوں و نوجوانوں کی ذہن سازی کا مرکز بنایا جانا چاہیے؟ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی تنظیم رہائشیوں اور ان کے بچوں تک رسائی چاہتی ہے تو اس کے ڈھانچے، فنڈز اور قانونی حیثیت میں شفافیت کا ہونا بنیادی شرط ہے۔
یہ معاملہ بنگلورو کے معروف رہائشی کمپلیکس ‘فینکس او بی ڈبلیو اور کیساکو’ میں آر ایس ایس کی جانب سے منعقدہ ‘انٹروڈکشن ٹو دی آر ایس ایس’ عنوان کے تحت ایک پروگرام کے بعد سامنے آیا، جس میں آر ایس ایس کے کرناٹک دکشن سہ سمپرک پرمکھ ہریش راؤ نے بطور اہم مقرر شرکت کی۔ اس تقریب پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پریانک کھرگے نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اپارٹمنٹ سوسائٹیاں ایسی تنظیموں کے لیے اپنے دروازے کھول رہی ہیں جن کے قانونی اور ریگولیٹری وجود پر ہی سوالات موجود ہیں۔
پریانک کھرگے پچھلے کچھ عرصے سے آر ایس ایس کی قانونی رجسٹریشن، عہدیداروں کے نام، آمدنی کے ذرائع، اخراجات، اثاثہ جات اور انکم ٹیکس کی تعمیل کے حوالے سے مسلسل سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اتنی بڑی عوامی اثر و رسوخ رکھنے والی تنظیم کو قانونی اور مالی جواب دہی کے دائرے میں آنا چاہیے۔
دوسری جانب آر ایس ایس کا موقف رہا ہے کہ اسے کام کرنے کے لیے کسی رسمی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہے اور اس کی تمام سرگرمیاں کھلے عام ہوتی ہیں۔ آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے پہلے بھی اس طرح کے مطالبات کو سیاست سے متاثر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تنظیم غیر رجسٹرڈ افراد کے باضابطہ تسلیم شدہ گروپ کے طور پر کام کرتی ہے اور اس کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ تاہم پریانک کھرگے نے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ یہ تنظیم کس قانون کے تحت چل رہی ہے، اس کے بینک اکاؤنٹس کون چلاتا ہے اور موصول ہونے والے عطیات کا حساب کتاب کیسے رکھا جاتا ہے؟




