چنئی میں جاری مجمع الامام الشافعی العالمی کا سہ روزہ سیمینار کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر، چار جدید مسائل پر تجاویز پیش ، تین سو سے زائد مندوبین کی شرکت

چنئی (فکرو خبر نیوز) مجمع الامام الشافعی العالمی کے زیر اہتمام اور مجمع کی تملناڈو یونٹ کے زیر انتظام چنئی میں منعقدہ سہ روزہ سیمینار آج تاریخی پیریامیڈ مسجد میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
سیمینار کی افتتاحی نشست سمیت اس کی چار نشستیں حج ہاؤس میں منعقد ہوئی تھیں جہاں موجودہ زمانے کے اہم ترین چار مسائل پر بحث کی گئی اور باحثین کی آراء کی روشنی میں مرتب کردہ تجاویز پیرے میڈ مسجد چنئی میں منعقدہ سیمینار کی آخری نشست میں پیش کی گئیں۔
اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے استاد دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو مولانا عبد السبحان ندوی نے کہا کہ فقہ شافعی کے ساتھ فکر شافعی کو بھی عام کرنے کی ضرورت ہے، طلاق کے مسائل حل کرنا علماء کی ذمہ داری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اس کی وجوہات کا پتہ لگا کر عوام کو منکرات اور محرمات سے بچانے کی فکر کریں۔
انہوں نے پوری تاکید کے ساتھ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل دین ہے اور فقہ شافعی بھی اسی کا ایک حصہ ہے ، وہ کوئی الگ نہیں ہے۔
مولانا نے حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کی خصوصیات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جس زمانے میں لوگ اپنے اپنے مسالک کے سلسلے میں متشدد تھے انہوں نے آکر ان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جس کے بعد بڑے بڑے علماء نے ان کے اس کارنامے کی تعریف کی، انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ پہلے فقہی امام ہیں جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے لوگوں سے بغیر کسی سیاست کے استفادہ کیا۔
جامعہ اسلامیہ کے نائب مولانا عبدالمتین منیری نے سیمینار میں شرکت پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور کے جدید مسائل کے حل کے لیے نوجوان علماء کی کاوشیں قابل قدر ہیں انہوں نے مولانا قاضی مجاہد الاسلام رحمہ اللہ کے حوالے سے کہا کہ بڑی بڑی کتابیں تصنیف کرنا ہی صرف دین کی خدمت نہیں ہے بلکہ جدید مسائل کو قران و سنت کی روشنی میں حل کرنا بھی دینی خدمات میں شامل ہے انہوں نے واقعات کے حوالے سے مولانا قاضی مجاہد الاسلام رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا تھا کہ میں یہ نوجوان علماء کی ٹیم چھوڑ کے جا رہا ہوں یہ میری دینی خدمات ہیں۔
ناظم جامعہ حسینیہ شری وردھن مولانا محمد صادق صاحب نے سمینار کے انعقاد کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان سیمیناروں سے اس امت کی رہبری مقصود ہے اور جن مسائل کا ہم نے مطالعہ کیا ہے ان کی روشنی میں جدید مسائل حل کیے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ اس مختصر سے سیمینار میں پچاسوں کتابوں کا نچوڑ پیش کیا جاتا ہے جس سے علمی حلقے کو اسانی کے ساتھ استفادہ کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ مولا نے ایک مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ تجارت کے مسائل میں ہم موجودہ مسائل کی تہہ تک پہنچنے کے لیے اس میدان کے ماہرین سے بھی فائدہ حاصل کریں۔
مولانا مفتی عبدالعزیز لحجی نے اپنے تاثرات میں مجمع الامام الشافعی کی خدمات پر مختصرا روشنی ڈالتے ہوئے جدید مسائل کے حل میں علماء کی ان قابل قدر کوششوں کی سراہنا کی, انہوں نے اپنے تاثرات میں کئی اہم باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فقہ شافعی کے میدان میں کام کو وسعت دینے کا بھی مشورہ دیا۔
واضح رہے کہ اس اخری نشست میں چار اہم مسائل پر تجاویز پیش کی گئی جمعہ اور نقل مکانی کی موضوع پر تجاویز مولانا مفتی فیاض احمد برمارے نے پیش کیے جبکہ سیر و تفریح کے موضوع پر مولانا مفتی عبدالکریم ندوی نے ، سونے چاندی کے متعلق مسائل کے موضوع پر مولانا مفتی قاضی اشفاق صاحب نے اور مضاربت کے موضوع پر تجاویز مولانا مفتی تنویر پاولے نے حاضرین کے سامنے رکھی۔ ان تجاویز پر سامعین نے اپنے آراء بھی پیش کی جس کے بعد ان تجاویز میں معمولی رد و بدل کے ساتھ منظور کیا گیا۔
اسٹیج پر شیخ الحدیث جامعہ حسینیہ شری وردھن مولانا ابراہیم صاحب۔ قاضی جماعت المسلمین بھٹکل مولانا عبدالرب ندوی ، مجمع الامام الشافعی العالمی کے صدر جناب محمد رفیق پورکر ، جنرل سیکریٹری مولانا عبید اللہ ندوی وغیرہ موجود تھے۔
نظامت کے فرائض مولانا طارق انور نے انجام دیے عبدالکریم حضرت کے شکریہ اور مولانا ابراہیم صاحب کی دعا پر یہ تین روزہ سیمینار تاریخی مسجد میں اپنے پوری کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔

شیئر کریں۔