ایران کی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ ان کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ یہ تنازع اب ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ تہران میں ایک عسکری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مسلح افواج کو حکم دیا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ جارحیت یا نئے حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہر لمحہ مکمل جنگی تیاری کی حالت میں رہیں۔ یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں عسکری کشیدگی، جنگ بندی کی کوششوں اور عالمی تجارتی گزرگاہوں کے مستقبل کو لے کر شدید بے یقینی پائی جاتی ہے۔
میجر جنرل امیر حاتمی کا کہنا تھا کہ ایران جاری محاذ آرائی میں سرخرو رہا ہے، تاہم اس حاصل شدہ عسکری و اسٹریٹجک کامیابی کو برقرار رکھنا اور مستحکم کرنا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حریف فریق کو میدان میں غیر معمولی نقصان اٹھانا پڑا ہے، مگر ایرانی فوج کو غفلت کا شکار ہوئے بغیر دشمن کی کسی بھی نئی مہم جوئی کا فوری اور سخت جواب دینے کے لیے مستعد رہنا ہوگا۔ ان کے مطابق ایران نے استعماری قوتوں اور اسرائیل کے خلاف اپنی سرحدوں، ملکی خود مختاری اور عوام کے تحفظ کا بھرپور دفاع کر کے ثابت کیا ہے کہ وہ خطے میں کسی قسم کا بیرونی دباؤ یا جبر تسلیم نہیں کرے گا۔
اس عسکری بیان بازی کا بنیادی پس منظر خلیج فارس، خصوصاً آبنائے ہرمز پر جاری تعطل اور سفارتی تعطل سے جڑا ہوا ہے۔ اگرچہ مسقط اور دیگر علاقائی ثالثوں کے توسط سے واشنگٹن کو بحری راستوں کی کشادگی اور ممکنہ فائر بندی سے متعلق تجاویز بھجوائی گئی ہیں، لیکن تہران اب بھی امریکی ردعمل کو مشکوک نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔ ایرانی عسکری قیادت نے واضح الفاظ میں باور کرایا ہے کہ وہ ایسی کوئی بھی ترتیب ہرگز قبول نہیں کریں گے جس میں ایران کو تو معاشی و تجارتی سرگرمیوں سے محروم رکھا جائے جبکہ دیگر طاقتیں بلا روک ٹوک خطے کے بحری راستوں کا استعمال کرتی رہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کی حفاظت اور اس پر خود مختار حق ملک کے وقار سے وابستہ ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے بھی آرمی چیف کے مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ملک کے فضائی، بحری اور زمینی دفاعی دستے ممکنہ حملوں سے نمٹنے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے خطے میں دوبارہ طاقت کے استعمال یا حملے کی کوشش کی تو اسے سابقہ نقصانات سے کہیں زیادہ بھاری اور تباہ کن خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ خطے میں طاقت کے توازن اور سمندری سلامتی کو لاحق خطرات نے عالمی تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارتی حلقوں میں بھی شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ ایرانی عسکری قیادت کا یہ جارحانہ رخ سفارتی سطح پر برتری حاصل کرنے اور واشنگٹن پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب عالمی برادری کی نظریں اب امریکی انتظامیہ کے آئندہ لائحہ عمل اور ثالثی کی کوششوں پر ٹکی ہوئی ہیں تاکہ اس تصادم کو ایک وسیع تر علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔




