راجستھان میں پولیس اسٹیشن کےباہر مسلم کسان کا سفاکانہ قتل

راجستھان کے ضلع الور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور عام شہریوں کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ باروڈا میو پولیس اسٹیشن کے بالکل قریب ایک چالیس سالہ شخص سیکن خان کا پتھر سے سر کچل کر سفاکانہ قتل کر دیا گیا۔ اس اندوہناک واقعے پر کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیڑا نے ریاستی نظم و نسق کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شدید برہمی ظاہر کی ہے اور پولیس کے کردار پر کڑے سوالات داغے ہیں۔

پون کھیڑا نے کہا کہ ایک شہری کو تھانے کے بالکل باہر بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا جاتا ہے اور اسے بچانے کے لیے ایک بھی پولیس اہلکار باہر نہیں نکلتا، جو انتہائی خوفناک صورتحال ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مقتول کا واحد جرم شاید یہ تھا کہ وہ اپنی داڑھی اور ٹوپی کی وجہ سے واضح طور پر مسلمان دکھائی دیتا تھا۔ کانگریس رہنما کا کہنا تھا کہ لباس کے ذریعے پہچان کی منفی سیاست نے سماج میں زہریلا ماحول پیدا کیا ہے جس کے نتیجے میں اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانے پر لیا جا رہا ہے۔

مقتول سیکن خان کا تعلق الور کے گاؤں باراواس سے تھا اور وہ تین بچوں کے کفیل تھے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق وہ چوبیس ستمبر کی صبح موٹر سائیکل کا ٹائر خریدنے قریبی بازار گئے تھے لیکن گھنٹوں بعد ان کی خون آلود لاش تھانے کے قریب سے برآمد ہوئی۔ مقتول کے چھوٹے بھائی ارشاد خان کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی کی کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی یا جھگڑا نہیں تھا۔ اہل خانہ کا واضح موقف ہے کہ سیکن خان کو ان کے ظاہری اسلامی لباس اور تشخص کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا، جب کہ اتنے حساس مقام پر پیش آنے والے واقعے کے دوران پولیس تماشائی بنی رہی۔

عوامی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعے کو پولیس کی مجرمانہ لاپرواہی اور امن و امان کی بدترین ناکامی قرار دیا ہے۔ تھانے کی چند گز کی دوری پر اس نوعیت کی ہولناک واردات نے شہریوں، بالخصوص اقلیتی آبادی میں عدم تحفظ کا شدید احساس پیدا کر دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اسٹیشن کی ناک کے نیچے بھی لوگ محفوظ نہیں ہیں تو دور دراز علاقوں میں شہریوں کا کیا پرسانِ حال ہوگا۔

ابتدائی معلومات کے مطابق پولیس نے اس واردات کے مبینہ ملزم کو گرفتار کر لیا ہے اور واقعے کی مختلف زاویوں سے چھان بین جاری ہے۔

شیئر کریں۔