اقلیتوں کے خلاف دہشت گردی قوانین کے استعمال پر USCIRF کا اظہارِ تشویش

بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن (یو ایس سی آئی آر ایف) نے امریکی محکمہ خارجہ سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی حکام کے ساتھ سفارتی سطح پر رابطہ قائم کر کے ان تمام افراد کی رہائی کے لیے کوششیں تیز کرے جنہیں ان کے بقول مذہبی یا بنیادی حقوق کے استعمال پر قید میں رکھا گیا ہے ، یہ مطالبہ دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے برطانوی نژاد سکھ کارکن جگتار سنگھ جوہل کو طویل عدالتی حراست کے بعد این آئی اے کے مقدمات میں ضمانت منظور کیے جانے کے فوری بعد سامنے آیا ہے کمیشن کے مطابق یہ معاملہ محض ایک فرد کا نہیں بلکہ انسدادِ دہشت گردی قوانین کے ذریعے اقلیتی آوازوں کو خاموش کرانے کے وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے।

یو ایس سی آئی آر ایف کے چیئرمین آصف محمود نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ طویل غیر قانونی و بے جا حراست کے بعد یہ ضمانت ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم جگتار سنگھ کی برطانیہ واپسی اور اپنے اہل خانہ سے ملاپ پر اب بھی غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے। ہائی کورٹ نے ضمانت منظور کرتے ہوئے سخت شرائط عائد کی ہیں، جن میں پاسپورٹ کا سرینڈر کرنا، پریس سے بات چیت پر پابندی اور سوشل میڈیا سرگرمیوں پر سخت قدغن شامل ہیں۔ کمیشن نے نشاندہی کی کہ جگتار سنگھ کو تاحال سنگین الزامات کا سامنا ہے، جن میں سے آٹھ دفعات کے تحت سزائے موت تک سنائی جا سکتی ہے۔

کمیشن نے معاملے کا تفصیلی پس منظر بیان کرتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ جگتار سنگھ کو 2017 میں گرفتار کر کے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون (یو اے پی اے) کے تحت ماخوذ کیا گیا تھا۔ گرفتاری سے قبل وہ بھارت میں سکھ برادری کے خلاف انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر انٹرنیٹ پر تحریریں لکھتے تھے، جو کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار کے تحت بنیادی آزادی اظہار کے دائرے میں آتا ہے۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ ورکنگ گروپ نے بھی 2022 میں ان کی حراست کو غیر قانونی قرار دیا تھا। جوہل نے حراست کے دوران تشدد، بجلی کے جھٹکے اور جبری اعترافی بیان لیے جانے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں، جن پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے।

یو ایس سی آئی آر ایف کی وائس چیئر سیسیلیا ہِیل نے واضح کیا کہ جگتار سنگھ کے معاملے کو الگ تھلگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے دہلی یونیورسٹی کے سابق ریسرچر اور کارکن عمر خالد اور طالب علم رہنما شرجیل امام کے مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں نوجوان سالہا سال سے یو اے پی اے جیسے سخت قانون کے تحت بغیر کسی حتمی فیصلے کے جیلوں میں بند ہیں। کمیشن کا موقف ہے کہ پرامن احتجاج اور اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کا سہارا لیا جا رہا ہے، جس سے آئین کے تحت ملنے والے بنیادی حقوق اور قانونی کارروائی کے منصفانہ طریقہ کار کو شدید دھچکا پہنچ رہا ہے।

بین الاقوامی سطح پر جہاں یو اے پی اے کی ان شقوں پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جو طویل عرصے تک بغیر ٹرائل کے ضمانت ناممکن بنا دیتی ہیں، وہیں بھارتی حکام کا مسلسل یہ موقف رہا ہے کہ ملکی سلامتی، خود مختاری اور دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے یہ قانون ناگزیر ہے। نئی دہلی کی جانب سے یہ بھی بارہا دہرایا گیا ہے کہ ملک کا عدالتی نظام مکمل طور پر آزاد ہے اور قوانین کا اطلاق کسی مذہبی تفریق کے بغیر خالصتاً شواہد کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

عالمی سفارتی حلقوں میں جگتار سنگھ جوہل کی مشروط ضمانت کے بعد اب توجہ ان قانونی مقدمات کی طرف مبذول ہو گئی ہے جہاں سماعتوں میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق مقدمات میں سینکڑوں گواہان کی شہادتیں سالہا سال تک التوا میں رہنے کی وجہ سے قیدیوں کے لیے آزادی کے دروازے بند رہتے ہیں۔ یو ایس سی آئی آر ایف نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ دہلی کے ساتھ اپنے دوطرفہ مذاکرات میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے ان سنجیدہ معاملات کو ترجیحی ایجنڈے پر رکھے۔

شیئر کریں۔