بنگلورو: کرناٹک کے فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن (FDA) نے بیدادی کے قریب جعلی ادویات تیار کرنے اور بیچنے والے ایک بڑے گروہ کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 16 میڈیکل کمپنیوں و ادویات کے فارموں کے لائسنس منسوخ کر دیے ہیں جبکہ ملٹی نیشنل فارما کمپنی ’فائزر‘ (Pfizer Ltd) کے ہول سیل لائسنس سمیت 8 دیگر لائسنس معطل کر دیے ہیں۔
یہ بڑی کارروائی ایف ڈی اے کی جانب سے 18 اگست کو بیدادی کے نزدیک گروبرکیرنہلی میں ایک غیر قانونی و بغیر لائسنس والی فیکٹری پر مارے گئے چھاپے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس چھاپے میں حکام نے 5.05 کروڑ روپے مالیت کی جعلی ادویات، مشینری، پیکیجنگ کا سامان اور جعلی لیبل ضبط کیے تھے۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ پڑوسی ریاستوں سے سستی اور کم قیمت ادویات لا کر ان کی شیشیاں بدلی جاتی تھیں اور فائزر جیسی عالمی معروف کمپنیوں کے برانڈز کے جعلی لیبل لگا کر انہیں مہنگے داموں اور جان بچانے والی ادویات کے طور پر بازار میں سپلائی کیا جاتا تھا۔
ایف ڈی اے کے مطابق جن 16 کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کیے گئے ہیں ان میں ایویسکو ہیلتھ کیئر، بنگلور اسپیشلٹی فارما، پٹیل میڈی ٹریڈ، راج راجیشوری فارما، این ایس فارما، اور سینٹ فلومینا ہسپتال ڈرگ سینٹر وغیرہ شامل ہیں۔ جبکہ بنگلورو دیہی کے نیلمنگلا میں واقع ملٹی نیشنل کمپنی ’فائزر لمیٹڈ‘ کے ہول سیل لائسنس سمیت میڈ فارما اور وووانتھا فارماسیوٹیکلز جیسے 8 اداروں کے لائسنس معطل کر دیے گئے ہیں۔
محکمے نے پورٹل پر ان ادویات کے بیچ نمبرز کو بلاک کر دیا ہے تاکہ ان کی خرید و فروخت کو فوری روکا جا سکے اور نمونے لیبارٹری کیمیائی جانچ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔ ایف ڈی اے نے متنبہ کیا ہے کہ ان جعلی اور نام نہاد ادویات میں اصل دوائی اجزاء موجود نہیں ہیں جو کہ عوامی صحت کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔ ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور اس معاملے کی وسیع تر چھان بین اور سپلائی چین کا پردہ فاش کرنے کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی گئی ہے۔ محکمے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف تصدیق شدہ اور لائسنس یافتہ میڈیکل اسٹورز سے ہی پکے بل کے ساتھ ادویات خریدیں۔




