منگلورو: ساحلی شہر منگلورو کے برقی و عوامی نظامِ نقل و حمل میں ایک نئے دور کا آغاز کرتے ہوئے مجوزہ "منگلورو واٹر میٹرو پراجیکٹ” کے طور پرمنگلورو پورٹ اینڈ فشرریز سب ڈویژن نے کئی مرحلہ وار جائزوں اور طریقہ کار کے بعد مجوزہ 19 واٹر میٹرو اسٹیشنوں میں سے 11 کو حتمی شکل دے دی ہے۔
اس سے قبل ریاستی کابینہ نے اس اہم پراجیکٹ کے لیے تکنیکی و مالیاتی فزیبلٹی اسٹڈی (تیکنیکی و معاشی امکانات کا جائزہ) کرنے کی ہدایت دی تھی۔ یہ منصوبہ صرف شہری ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا بنیادی مقصد پورٹ اور ساحلی علاقوں کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ منصوبے کے تحت پرانی منگلورو بندرگاہ، پورٹ فیری، سینڈ بار، طوطا بنگرے، ہوئیگے بازار، جیپو اور الالم جیسے اہم مقامات کو اس نیٹ ورک سے جوڑا جائے گا، جس سے مستقبل میں آبی راستوں کے ذریعے تجارت، سیاحت اور مقامی سرگرمیوں کو زبردست فروغ ملنے کی امید ہے۔
منگلورو پورٹ اینڈ فشرریز سب ڈویژن کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر (AEE) ششی دھر نے بتایا کہ واٹر میٹرو سے متعلق ابتدائی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت جن 11 اسٹیشنوں کو فائنل کیا گیا ہے ان میں جیپیناموگارو این ایچ، ناردرن سینڈ بار، اولڈ پورٹ، پورٹ فیری، سینڈپٹ بنگرے، بنگرا کولور، کولور برج، قصبہ بنگرے، سلطان بیٹری، جیپیناموگارو اولڈ فیری اور تنیر بھاوی چرچ شامل ہیں۔ کولور برج اس پراجیکٹ کا اہم مرکز ہوگا جہاں رو-رو (Ro-Ro) اور فلوٹنگ ماڈلز پر مبنی دو الگ الگ اسٹیشنز بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
منگلورو کی جغرافیائی ساخت کو مدنظر رکھتے ہوئے آبی راستوں کا عوامی ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال سڑکوں پر گاڑیوں کے بے تحاشا دباؤ کو کم کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہوگا۔ اگر یہ پراجیکٹ مکمل طور پر نافذ العمل ہو جاتا ہے تو مسافروں کو پرہجوم سڑکوں کے بجائے پرسکون آبی راستوں سے سفر کا ایک بہترین متبادل مل جائے گا۔ اگرچہ حتمی ڈی پی آر (Detailed Project Report) میں کرایہ، بوٹ سروسز کی تعداد اور وقت کا تعین کیا جائے گا، لیکن اس پیش رفت نے ساحلی کرناٹک کے شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔




