بھٹکل (فکروخبر نیوز): گنیش مورتی وسرجن کے لیے نکالے گئے جلوس کے دوران مسجد اور مدرسے پر مبینہ پتھراؤ کے واقعے کے بعد بھٹکل میں کشیدگی کی صورتِ حال پیدا ہوگئی۔ واقعے کے خلاف مسلم کمیونٹی کے سینکڑوں افراد نے بدھ کی رات بھٹکل ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہوکر خاطیوں کی فوری گرفتاری اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے، جبکہ احتیاطی طور پر اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق تلاند سے گنیش وسرجن کے لیے روانہ ہونے والا جلوس گلّمی ریلوے برج عبور کرکے ریلوے اسٹیشن کی جانب جانے والی سڑک سے گزر رہا تھا۔ اسی دوران راستے میں واقع مسجدِ اسماعیل سنی جامع مسجد اور اس سے متصل تاج السنہ عربک مدرسے پر نامعلوم افراد کی جانب سے مبینہ طور پر پتھراؤ کیا گیا، جس کے نتیجے میں مسجد اور مدرسے کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
واقعے کے سلسلے میں بھٹکل ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پتھراؤ کے ذریعے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور مختلف طبقات کے درمیان نفرت پیدا کرکے امن و امان کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔
پتھراؤ کی خبر پھیلتے ہی مسلم کمیونٹی کے سینکڑوں افراد پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہوگئے اور ملوث افراد کو جلد از جلد گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ خاطیوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ پولیس نے عوام سے امن برقرار رکھنے اور کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی سے گریز کرنے کی اپیل کی۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر اتر کنڑا ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دیپن ایم این کاروار سے بھٹکل پہنچے اور صورتِ حال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے احتجاجیوں کو یقین دلایا کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، اور عوام سے پولیس کو تحقیقات مکمل کرنے کا موقع دینے کی اپیل کی۔
پولیس نے مسجد اور مدرسے کے اطراف سمیت دیگر حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کردی ہے۔ ایس پی دیپن ایم این، ایڈیشنل ایس پی جی کرشن مورتی اور اے ایس پی رانو گپتا کی نگرانی میں پولیس صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ سی پی آئی دیواکر پی ایم اور پی ایس آئی نوین نائک کی قیادت میں تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق صورتِ حال قابو میں ہے۔ عوام سے امن و امان برقرار رکھنے، افواہوں پر توجہ نہ دینے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔




