حج 2027: میڈیکل ٹیسٹ اور فٹنس سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی تاریخ میں 30 ستمبر تک توسیع، صرف سرکاری اسپتالوں کی رپورٹ قابلِ قبول

مقدس سفرِ حج 2027 کے لیے منتخب عازمین کے لیے حج کمیٹی نے ایک اہم اور راحت بخش فیصلہ سناتے ہوئے ابتدائی طبی معائنے اور فٹنس سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کر دی ہے۔ نئے شیڈول کے تحت اب منتخب زائرین 30 ستمبر 2026 تک اپنے لازمی طبی ٹیسٹ مکمل کرا سکتے ہیں، جس کا مقصد عازمین کو ضروری طبی کارروائی بغیر کسی پریشانی کے مکمل کرنے کے لیے اضافی وقت فراہم کرنا ہے۔

دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے ایگزیکٹیو آفیسر اشفاق احمد کے مطابق منتخب عازمین کو اب یکم اکتوبر 2026 تک اپنا فٹنس سرٹیفکیٹ اور حج اخراجات کی پیشگی رقم کی رسید حج کمیٹی آف انڈیا کے آن لائن پورٹل پر لازمی طور پر اپ لوڈ کرنی ہوگی۔ دہلی کے عازمین کے پاس یہ سہولت بھی موجود رہے گی کہ وہ چاہیں تو اپنی دستاویزات دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے مرکزی دفتر ‘حج منزل’ میں دستی طور پر جمع کرا سکتے ہیں۔ اس اقدام سے ان بزرگ اور ناتجربہ کار عازمین کو سہولت ملے گی جنہیں ڈیجیٹل پورٹل کے استعمال میں دشواری پیش آتی ہے۔

حج انتظامیہ نے میڈیکل اسکریننگ کے حوالے سے انتہائی سخت اور واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی نجی اسپتال یا پرائیویٹ لیب کی ٹیسٹ رپورٹ ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ عازمین کو حج کمیٹی آف انڈیا کے طے کردہ مخصوص پروفارما پر ہی سرکاری اسپتال یا سرکاری تصدیق شدہ مراکز سے فٹنس سرٹیفکیٹ بنوانا ہوگا۔ لازمی ٹیسٹوں میں مکمل خون کا معائنہ، جگر اور گردوں کی جانچ، سینے کا ایکسرے اور بلڈ شوگر جیسے بنیادی ٹیسٹ شامل ہیں تاکہ سفر کے دوران کسی سنگین طبی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔ غیر ممالک میں مقیم منتخب ہندوستانی عازمین کو اپنے رہائشی ملک کے سرکاری اسپتالوں سے تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ پورٹل پر جمع کرانا ہوگا۔

طبی جانچ کے عمل کو آسان بنانے کے لیے اکیلے دہلی میں 25 سرکاری اسپتالوں کو مختص کیا گیا ہے، جن میں ایل این جے پی اسپتال، جی بی پنت اسپتال، سی بی ٹی اسپتال شاہدرہ، جگ پرویش اسپتال، ارونا آصف علی اسپتال اور مدن موہن مالویہ اسپتال شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عازمین ملک بھر کے کسی بھی مستند سرکاری اسپتال سے یہ معائنہ کرا سکتے ہیں۔ حج کمیٹی نے زائرین کو ہدایت دی ہے کہ وہ آخری تاریخ کے انتظار کے بغیر مقررہ مدت کے اندر تمام طبی و مالی تقاضے پورے کریں تاکہ بعد میں تکنیکی یا دفتری رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

شیئر کریں۔