اتر پردیش کے ضلع بجنور کے تحت نجیب آباد علاقے میں منگل کی دوپہر ایک سرکاری پرائمری اسکول کے استاد نوشاد احمد کو اسکول سے گھر جاتے ہوئے راستے میں دن دہاڑے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ واردات اسکول کی عمارت سے محض ڈیڑھ سو میٹر کے فاصلے پر پیش آئی، جس کے بعد شدید زخمی حالت میں استاد کو اتراکھنڈ کے ہمالیائی اسپتال جولی گرانٹ منتقل کیا جا رہا تھا مگر وہ راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ اس خونریز واردات کے کچھ ہی دیر بعد حملہ آور گورو راٹھی نے نجیب آباد تھانے پہنچ کر اسلحے سمیت خودسپردگی کر دی، جسے پولیس نے فوری تحویل میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔
موصولہ تفصیلات کے مطابق پورشتم پور پرائمری اسکول میں تعینات استاد نوشاد احمد دوپہر تقریباً دو بجے اسکول کی چھٹی کے بعد اپنے آبائی علاقے راحت پور خورد کی طرف موٹر سائیکل پر روانہ ہوئے تھے۔ گھات لگائے حملہ آور نے ان کا راستہ روکا اور انتہائی قریب سے ان کے جسم کے بالائی حصے پر گولیاں برسا دیں۔ خون میں لت پت ہونے کے باوجود نوشاد احمد گرتے پڑتے دوبارہ اسکول کی طرف پلٹے، جہاں ان کی ایک ساتھی خاتون ٹیچر ترونا چورسیا نے انہیں تڑپتے دیکھ کر فوری طور پر ای رکشا کے ذریعے نجیب آباد کے نجی اسپتال پہنچایا۔ وہاں حالت غیر معمولی طور پر نازک دیکھتے ہوئے ڈاکٹروں نے انہیں بڑے طبی مرکز بھیجا، لیکن خون زیادہ بہہ جانے کے سبب ان کی جان نہ بچائی جا سکی۔
پولیس کی ابتدائی کارروائی کے دوران ملزم گورو راٹھی نے تھانے میں دو دیسی پستول اور چھ زندہ کارتوس پیش کیے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی بجنور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے کے بشنوئی بھاری نفری کے ساتھ موقع پر پہنچے اور کرائم برانچ کو شواہد اکٹھے کرنے کے احکامات جاری کیے۔ پولیس نے واردات کے راستے پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ ضبط کر لی ہے تاکہ اس بات کا سراغ لگایا جا سکے کہ آیا ملزم کے ساتھ کوئی اور سہولت کار بھی موجود تھا یا نہیں۔
قتل کے حقیقی محرکات کے بارے میں پولیس نے تمام پہلوؤں پر تفتیش شروع کر دی ہے۔ نوشاد احمد کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ تدریس کے علاوہ جائیداد کی خرید و فروخت سے بھی جزوی طور پر وابستہ تھے، جس کے تناظر میں مالی تنازع کے زاویے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ چند مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم نے گرفتاری کے وقت پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے مخصوص فرقہ وارانہ الزامات لگانے کی کوشش کی، تاہم ضلعی پولیس انتظامیہ نے اس کی تصدیق نہیں کی اور واضح کیا ہے کہ یہ ملزم کا یکطرفہ اور مبینہ بیان ہو سکتا ہے جسے تصدیق کے بغیر اصل وجہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
ایک باکردار اور محنتی سرکاری استاد کے اس سفاکانہ قتل نے نجیب آباد سمیت پورے ضلع کے تعلیمی حلقوں کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ ساتھی اساتذہ، طلبہ اور مقامی شہریوں نے واقعے پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے قاتل کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین دفعات عائد کرنے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے پسِ پردہ حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فارنزک ٹیموں کی جانچ اور ملزم سے تفصیلی پوچھ گچھ کے بعد ہی حتمی چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔




