مرکزی حکومت نے تہواروں کے اہم سیزن سے عین قبل سونے اور چاندی کے زیورات کی تصدیقی فیس یعنی ہال مارکنگ چارجز میں سرسری طور پر 67 فیصد کا یکطرفہ اضافہ کر دیا ہے۔ نئی دہلی میں وزارتِ امورِ صارفین کے زیرِ انتظام کام کرنے والے ادارے بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) کے ذریعے لاگو کیے گئے اس فیصلے کے تحت اب ہر سونے کے زیور کی ہال مارکنگ فیس 45 روپے سے بڑھ کر 75 روپے ہو گئی ہے۔ اس غیر متوقع اضافے پر ملک بھر کی صرافہ مارکیٹوں اور جیولری انڈسٹری میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے اور نمائندہ تنظیموں نے اس اقدام کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے۔
نئے ضوابط کے مطابق سونے کے زیورات کی فی آئٹم فیس 75 روپے مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ ہر کھیپ کے لیے کم از کم چارج 200 روپے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی تاجر کی کھیپ میں موجود زیورات کی طے شدہ فیس 200 روپے سے کم بھی بنتی ہو، تب بھی اسے کم از کم 200 روپے کی ادائیگی کرنی پڑے گی۔ چاندی کے زیورات کے لیے ہال مارکنگ فیس 35 روپے فی آئٹم مقرر کی گئی ہے، جس پر کم از کم کھیپ فیس 150 روپے لاگو ہوگی۔ اس فیصلے کا اطلاق ملک کے تمام منظور شدہ اور لائسنس یافتہ جیولرز پر فوری طور پر ہو چکا ہے۔
صرافہ تاجروں کی سب سے بڑی قومی تنظیم ‘آل انڈیا جیم اینڈ جیولری ڈومیسٹک کونسل’ نے مرکزی حکومت کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ فوری واپس لینے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ وہ زیورات کے معیار اور خالص پن کی سرکاری تصدیق کے عمل کے خلاف نہیں ہیں، مگر جس وقت ملک بھر میں ہال مارکنگ مراکز کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے اور لاکھوں کی تعداد میں زیورات کی جانچ ہو رہی ہے، اس مرحلے پر فیسوں میں اتنا بڑا اضافہ معاشی اصولوں کے بالکل برعکس ہے۔ تنظیم نے دلیل دی ہے کہ کام کا حجم بڑھنے سے خدمات کی لاگت سستی ہونی چاہیے تھی نہ کہ اس میں اچانک دو تہائی کا اضافہ کر دیا جاتا۔
کونسل نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کاروباری لاگت میں اس غیر معمولی اضافے سے مارکیٹ میں غیر قانونی سرگرمیاں تیز ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ چھوٹے کاریگر اور دکاندار بڑھتے ہوئے اخراجات سے بچنے کے لیے غیر رجسٹرڈ مراکز یا جعلی ہال مارک کا سہارا لے سکتے ہیں، جس سے بالآخر صارفین کے ساتھ دھوکہ دہی کے امکانات بڑھیں گے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ پہلے جعلی ہال مارکنگ اور غیر قانونی مراکز کے خلاف قانونی شکنجہ کستی، لیکن اس کے برعکس قانونی دائرے میں کام کرنے والے تاجروں پر ہی مزید مالی بوجھ لاد دیا گیا ہے۔
کاروباری تنظیموں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تفصیلی مشاورت مکمل ہونے تک اس نوٹیفکیشن کو معطل رکھا جائے۔ صرافہ ایسوسی ایشنز نے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے ہنگامی مشاورتی اجلاس طلب کر لیے ہیں، جن میں حکومت کے نام یادداشتیں پیش کرنے اور فیصلہ واپس نہ لینے کی صورت میں ملک گیر نمائندگی کا عندیہ دیا گیا ہے۔




