یو پی آئی پر ایم ڈی آر کا نفاذ: اپوزیشن کا الزام ، ٹرمپ کے آگے جھک گئی مودی سرکار ، راہل گاندھی کا وزیراعظم سے ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ

لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے دو ہزار روپے سے زائد مالیت کی یو پی آئی ٹرانزیکشنز پر مجوزہ مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ یعنی ایم ڈی آر کے نفاذ کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے فوری واپس لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ بدھ کو نئی دہلی سے جاری ایک ویڈیو بیان میں راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت نے بیرونی معاشی مفادات اور امریکی لابی کے دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جو ملک کے غریب، چھوٹے کاروباریوں اور عام صارفین پر براۂ راست مالی بوجھ ڈالے گا۔

مرکزی حکومت کے مجوزہ منصوبے کے تحت پندرہ اکتوبر سے دو ہزار روپے سے زائد کی مرچنٹ یو پی آئی ادائیگیوں پر صفر اعشاریہ چار فیصد چارج لاگو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ حکومتی سطح پر یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ یہ فیس عام صارف کے بجائے دکانداروں اور تاجروں پر عائد ہوگی، تاہم معاشی ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ دکاندار اس اضافی لاگت کو اشیاء کی قیمتوں میں شامل کریں گے جس کا حتمی بوجھ عام شہری ہی اٹھائیں گے۔

راہل گاندھی نے سابق وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کے اصولی مؤقف کی مثال پیش کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی سفارتی اور معاشی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی خودمختاری اور معاشی مفادات پر سمجھوتہ کر کے ڈیجیٹل لین دین پر فیس عائد کرنا ہر ہندوستانی شہری پر نیا ٹیکس لگانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ پسپائی اختیار کرنے کے بجائے معاشی خودداری دکھائیں اور اس عوام دشمن فیصلے کو بغیر کسی تاخیر کے منسوخ کریں۔

کانگریس پارٹی نے پریس کانفرنس کے دوران اعداد و شمار کی روشنی میں حکومت کے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا کہ یو پی آئی انفراسٹرکچر کے اخراجات چلانے کے لیے ٹیکس ناگزیر ہو چکا ہے۔ پارٹی ترجمان سپریہ شرینیت کے مطابق ریزرو بینک آف انڈیا نے مرکزی حکومت کو مالی سال کے دوران ریکارڈ سرپلس منتقل کیا ہے اور ملک کے تجارتی بینک بھی بھاری منافع کما رہے ہیں، جس کے تناظر میں یو پی آئی کی دیکھ بھال کے اخراجات حکومت بآسانی خود برداشت کر سکتی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ یو پی آئی مارکیٹ میں غالب حصہ رکھنے والے امریکی نژاد پلیٹ فارمز کو فائدہ پہنچانے کے لیے اندرونِ ملک ڈیجیٹل لین دین کے آزادانہ نظام پر قدغن لگائی جا رہی ہے۔

ملک بھر کے تاجروں اور نچلی سطح کی کاروباری تنظیموں میں بھی اس فیصلے سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ چھوٹے کاروبار پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے متنبہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے ایوان سے لے کر سڑکوں تک اس معاشی فیصلے کے خلاف عوامی مہم چلائی جائے گی تاکہ عام شہریوں کو اس غیر ضروری ٹیکس کے بوجھ سے بچایا جا سکے۔

شیئر کریں۔