دو ہزار سے زائد یو پی آئی ادائیگیوں پر فیس کی راہ ہموار ، راہل گاندھی کا وزیراعظم مودی پرامریکی دباو کے آگے سمجھوتے کا الزام

مرکزی حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں نئی ترامیم اور گزٹ نوٹیفکیشن کے بعد ملک کا سیاسی پارہ چڑھ گیا ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے منگل کے روز مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے خاموشی سے دو ہزار روپے سے زائد کے یو پی آئی لین دین پر فیس عائد کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کو امریکی دباؤ کے سامنے سرنگوں ہونے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا یہ اقدام امریکی ادائیگی فرموں اور ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔

حالیہ نوٹیفکیشن پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹمز ایکٹ 2007 کے سیکشن 10 اے میں مانسون اجلاس کے دوران کی گئی ترامیم کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ اس ہدایت کے تحت بینکوں اور نظام فراہم کنندگان کو روپے ڈیبٹ کارڈ اور یو پی آئی کے ذریعے صرف دو ہزار روپے تک کے لین دین پر فیس وصول کرنے سے روکا گیا ہے۔ تاہم، دو ہزار روپے سے زائد کے تجارتی لین دین پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) کے نفاذ کی راہ کھول دی گئی ہے، جس پر حتمی شرح کا تعین نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) کی اسٹیئرنگ کمیٹی کرے گی۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ دو ہزار روپے سے زائد کے تجارتی لین دین کل حجم کا محض پانچ فیصد ہیں، لیکن مجموعی یو پی آئی مالیت کا تقریباً 65 فیصد حصہ انہی لین دین پر مشتمل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے یہ کہنا کہ صارفین پر فیس لاگو نہیں ہوگی، سراسر گمراہ کن ہے، کیونکہ تاجروں پر عائد کیا جانے والا کوئی بھی مالیاتی بوجھ بالآخر اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے براہ راست عام آدمی کی جیب سے ہی وصول کیا جائے گا۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بھی کہا کہ نوٹ بندی کے ذریعے عوام کو کیش لیس معیشت پر مجبور کرنے کے دس سال بعد اب عوام کی بچتوں پر ڈیجیٹل ادائیگی ٹیکس کا نیا وار کیا جا رہا ہے۔

حکومت اور وزارت خزانہ کا مؤقف ہے کہ یو پی آئی کے بے پناہ پھیلاؤ، سائبر سیکورٹی کے تحفظ، مالیاتی دھوکہ دہی کی روک تھام اور بنیادی تکنیکی ڈھانچے کو جدید بنانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری درکار ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے مطابق نظام کو ہمیشہ صرف سرکاری سبسڈی کے سہارے نہیں چلایا جا سکتا اور ایم ڈی آر صرف تاجروں پر لاگو ہوگا جس سے فن ٹیک اور بینکنگ سیکٹر مستحکم ہوگا۔ تاہم معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ دکاندار اس بوجھ سے بچنے کے لیے یا تو نقد ادائیگی کا مطالبہ کریں گے یا خاموشی سے اشیاء کے دام بڑھا دیں گے، جس سے بازار میں چھپی ہوئی مہنگائی جنم لے گی۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے خبردار کیا ہے کہ قانون کے اندر زیرو ایم ڈی آر کی حتمی ضمانت ختم کر کے حکومت نے مستقبل میں تمام لین دین پر فیس بڑھانے کا راستہ کھول دیا ہے۔ پارلیمنٹ سے لے کر عوامی حلقوں تک اس پالیسی کو عوام اور چھوٹے تاجروں کے مفادات کے خلاف دیکھا جا رہا ہے۔ اب نگاہیں این پی سی آئی کے متوقع فیصلے پر ٹکی ہیں کہ وہ چارجز کی کیا شرح مقرر کرتا ہے، جس کے بعد اس پالیسی کے وسیع تر اقتصادی اور سیاسی اثرات کھل کر سامنے آئیں گے۔

شیئر کریں۔