سہارنپور : ایم پی اقرا حسن کا منہدم کی گئی مساجد دوبارہ اسی جگہ تعمیر کرنے کا عزم ، قانونی لڑائی لڑنے کا اعلان

اتر پردیش کے ضلع سہارنپور میں کلکٹریٹ احاطے میں قائم تاریخی مسجد کے انہدام کے معاملے پر سیاسی اور قانونی بحث تیز ہو گئی ہے۔ کیرانہ سے سماجوادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے سہارنپور میں منعقدہ ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انتظامیہ کے اس اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ کلکٹریٹ مسجد اسی جگہ پر دوبارہ تعمیر کی جائے گی اور مسلم فریق کو ملک کی عدالتوں سے پورا انصاف حاصل ہوگا۔

اقرا حسن نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس کارروائی کے ذریعے علاقے میں دانستہ طور پر کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ان کے مطابق نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے 22 دن کی قانونی مہلت موجود تھی، مگر انتظامیہ نے عجلت میں کارروائی کرتے ہوئے راتوں رات مسجد پر بلڈوزر چلا دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد مسلم نوجوانوں کو اشتعال دلا کر سنگین مقدمات میں پھنسانا تھا، تاہم عوام کے پرامن طرز عمل کی بدولت یہ انتشار پسندی کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔

سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع اس مسجد کا مقدمہ طویل عرصے سے عدالت میں زیر سماعت تھا۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ مسجد سرکاری اراضی پر غیر قانونی طریقے سے تعمیر کی گئی تھی، جبکہ مسلم فریق اور مقامی کمیٹی کے مطابق مذکورہ اراضی ایک صدی سے زائد عرصے سے وقف ریکارڈ میں درج ہے اور وہاں باقاعدگی سے نماز ادا کی جا رہی تھی۔ ضلعی عدالت کے فیصلے کے فوراً بعد انتظامیہ نے بھاری پولیس فورس کی موجودگی میں مسجد کو منہدم کر دیا تھا، جس کے خلاف اب الہ آباد ہائی کورٹ میں قانونی چارہ جوئی جاری ہے۔

رکن پارلیمنٹ نے ریاستی انتظامیہ پر یکطرفہ رویہ اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہدام کے وقت عوامی نمائندوں کو روکنے کے لیے گھروں پر نظر بند کر دیا گیا تاکہ جائز احتجاج کی آواز کو دبایا جا سکے۔ انہوں نے یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) سمیت دیگر پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مخصوص اقلیتی طبقے کو دیوار سے لگانے کے اقدامات جمہوری نظام اور آئینی حقوق کے منافی ہیں۔

مسجد انہدام کا یہ معاملہ اب اعلیٰ عدلیہ کے روبرو ہے جہاں مسجد کمیٹی نے انتظامیہ کی کارروائی کے طریقۂ کار کو چیلنج کیا ہے۔

شیئر کریں۔