میسورو/بنگلورو(فکروخبرنیوز) گنیش وسرجن جلوس کے دوران ڈی جے کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی اور ریاست کی کانگریس حکومت کے درمیان شدید سیاسی محاذ آرائی شروع ہو گئی ہے۔ وزیراعلیٰ ڈی کے شوکمار نے بی جے پی کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت گنیش چتورتھی کی تقریبات پر کوئی پابندی نہیں لگا رہی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مذہبی تہواروں کو پرامن اور ذمہ دارانہ انداز میں منایا جانا چاہیے اور منتظمین کو ان نظم و ضبط کی پابندی کرنی چاہیے تاکہ امن و امان کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔ ڈی کے شوکمار نے کہا کہ اپوزیشن اس معاملے پر فرقہ وارانہ تناؤ پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے اور تہوار کو سیاسی ایجنڈے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ فی الوقت یہ معاملہ مذہبی آزادی، عوامی نظم و ضبط اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے حوالے سے ریاست میں ایک بڑا سیاسی بحث بن چکا ہے۔
واضح رہے کہ تنازع کی شروعات ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہوئی، جس میں ایک سینئر پولیس افسر جلوس کے منتظمین کو مسجد کے پاس سے گزرتے وقت پٹاخے نہ چھوڑنے کی تنبیہ کرتے ہوئے اور صورتحال کو حساس قرار دیتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی کی خبردار کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
اس ویڈیو کے سامنے آتے ہی بی جے پی رہنماؤں نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ریاست کی کانگریس حکومت پر ہندوؤں کے تہواروں اور مذہبی جلوسوں پر بلاجواز پابندیاں عائد کرنے کا الزام لگایا۔ میسورو سے بی جے پی کے رکنِ پارلیمان یدوویر وڈیار نے کہا کہ عمومی راستے تمام شہریوں کے لیے کھلے ہونے چاہئیں اور انتظامیہ کا کام مذہبی جلوسوں کو سہولت فراہم کرنا ہے نہ کہ ان پر قدغن لگانا۔ انہوں نے کہا کہ صرف کسی عبادت گاہ کے پاس سے گزرنے کی وجہ سے روایت کو نہیں روکا جانا چاہیے۔
دوسری طرف اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف آر اشوک نے بھی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مدور اور کولار سمیت ریاست کے دیگر حصوں میں بھی گنیش اتسو کے موقع پر انتظامیہ کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب دیگر عبادت گاہوں کے پاس سے جلوس گزرتے ہیں تو ایسی پابندیاں کیوں نہیں لگائی جاتیں؟ انہوں نے متعلقہ پولیس افسر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس تنازع کے دوران مظاہرہ کرنے پر آر اشوک اور دیگر بی جے پی کارکنان کو پولیس نے میسورو میں حراست میں لے لیا۔




