بنگلورو: کرناٹک کے وزیر برائے امورِ عامہ (PWD) ستیش جارکی ہولی، ان کے اہل خانہ اور قریبی ساتھیوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ (FEMA) کے تحت غیر ملکی غیر قانونی سرمایہ کاری کیس میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے 21 مختلف مقامات پر چھاپے مارے، جس کے دوران 3.3 کروڑ روپے کی نقد رقم اور 15 لاکھ روپے مالیت کے امریکی ڈالر اور یورو سمیت غیر ملکی کرنسی ضبط کر لی ہے۔
ذرائع کے مطابق ای ڈی کی ٹیموں نے 9 اور 10 ستمبر کو وزیر ستیش جارکی ہولی، ان کی بیٹی اور چکوڈی سے رکنِ پارلیمان پرینکا جارکی ہولی، بیٹے راہل جارکی ہولی اور بہنوئی وائی ڈی منجوناتھ کی رہائش گاہوں پر کارروائی انجام دی۔ اس کے علاوہ ان کے قریبی معاونین اور افسران جن میں ملاگوڑا پاٹل، راجو دارگ شیٹی، وٹھل پرسنور اور ڈاکٹر گریش سونوالکر شامل ہیں، ان کی جائیدادوں اور دفاتر پر بھی تفتیش کی گئی۔
ای ڈی حکام کے مطابق تفتیش کے دوران یہ اہم انکشاف سامنے آیا ہے کہ وزیر کے بچوں اور قریبی رشتہ داروں نے افریقی ممالک کی کمپنیوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ان میں کانگو کی ‘ایلڈوراڈو مائننگ ریسورسز’ اور زیمبیا کی ‘نوا اورم مائننگ لمیٹڈ’ جیسی غیر ملکی کمپنیاں شامل ہیں جہاں ان کے شیئرز موجود ہیں۔
علاوہ ازیں، ستیش جارکی ہولی کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ کانگو میں سونے کی کان کنی (Gold Mining) میں ملوث کمپنی ‘میگنیٹیوڈ اسٹار’ میں تقریباً 40 فیصد شیئرز کے مالک ہیں۔ ای ڈی حکام نے بتایا کہ افریقہ میں کان کنی اور دیگر اثاثوں سے متعلق متعدد اہم اور حساس دستاویزات بھی برآمد کر کے بحقِ سرکار ضبط کر لی گئی ہیں اور کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔




