بھٹکل (فکروخبرنیوز) کرناٹک میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) پروسیس کے تحت بھٹکل میں لوگوں کو الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹسز ملنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ نوٹس موصول ہونے کے بعد شہریوں کو 7 دنوں کے اندر ہئیرنگ (سماعت) میں پیش ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ ہئیرنگ کا یہ پورا سلسلہ 22 اکتوبر تک جاری رہے گا ۔
بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے جنرل سکریٹری کارکن مبشر ہلارے نے ایس آئی آر نوٹسز سے متعلق عوام کے لیے اہم اور ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ بنیادی طور پر دو طرح کے لوگوں کو نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔ پہلی قسم ان افراد کی ہے جن کے دستاویزات میں غلطیاں ہیں۔ جیسے نام یا عمر میں فرق، بہن بھائیوں کی عمر میں 9 ماہ سے کم کا وقفہ، یا والدین، دادا دادی اور نانا نانی کی عمر میں معیار سے کم کا تفاوت پایا جانا ۔ دوسری قسم ‘نو میپنگ’ (No Mapping) والے افراد کی ہے، جن کا یا جن کے والدین اور دادا دادی ، نانا اور نانی کا نام 2002 کی ووٹر لسٹ میں موجود نہیں ہے ۔
مبشر ہلارے نے وضاحت کی کہ اس کارروائی میں فارم یا نوٹس کے پیچھے درج 12 مخصوص دستاویزات (مثلاً برتھ سرٹیفکیٹ، پاسپورٹ، کاسٹ اینڈ انکم سرٹیفکیٹ وغیرہ) ہی کارآمد ہیں۔ جن شہریوں کے پاس یہ دستاویزات نہ ہوں، اگر وہ پچھلے 10 سال سے کرناٹک میں رہائش پذیر ہیں یا تعلیم حاصل کی ہے تو وہ پرماننٹ ریزیڈنس سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دے کر یہ شرط پوری کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن شہریوں کی عمر 18 سال ہو چکی ہے اور ان کا نام ڈرافٹ لسٹ میں شامل نہیں ہے، ان کے لیے 23 ستمبر سے پہلے فارم 6 (Form 6) پر کر کے نیا نام درج کرانے کا بہترین موقع ہے ۔ اسی طرح جن کے نام، پتہ یا تاریخ پیدائش میں کسی قسم کی تصحیح درکار ہو، وہ فارم 8 (Form 8) جمع کرا سکتے ہیں۔ کسی بھی قسم کی دشواری یا مزید معلومات کے لیے بندر روڈ پر واقع مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل اور بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے مشترکہ ہیلپ لائن سینٹر سے رجوع کر سکتےہیں۔
این آر آئی (NRI) اور خلیجی ممالک یا دیگر ریاستوں میں مقیم افراد سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ فی الوقت الیکشن کمیشن یا چیف الیکٹورل آفیسر کرناٹک کی جانب سے ان کے لیے براہ راست خود پیش نہ ہونے کی کوئی صریح رعایت جاری نہیں کی گئی ہے، لہٰذا جنہیں نوٹس ملی ہے ان کا خود حاضر ہونا ضروری ہے۔ تاہم مجلس اصلاح و تنظیم، کنڈیگا سنگھا اور دیگر ملی و سماجی تنظیموں نے اعلیٰ حکام کو یادداشت پیش کی ہے کہ دیگر ریاستوں (مثلاً تلنگانہ، کیرالہ وغیرہ) کی طرح یہاں بھی این آر آئیز کے رشتہ داروں کو ان کی جانب سے حاضر ہونے کی اجازت دی جائے اور امید ہے کہ جلد اس پر الیکشن کمیشن کا مثبت فیصلہ سامنے آئے گا۔




