منگلورو (فکروخبرنیوز) کرناٹک کے وزیر صحت یو ٹی قادر نے 108 ایمبولینس ملازمین کی جانب سے اجتماعی استعفے یا ہڑتال کی اطلاعات پر سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس قدم سے مریضوں کو ذرا سی بھی تکلیف پہنچی تو ملوث افراد کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔
منگلورو میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر صحت نے واضح کیا کہ حکومت کے لیے عام شہریوں اور خصوصاً مریضوں کی سلامتی سب سے پہلی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ 108 ایمبولینس کا عملہ ہمارے بھائیوں کی طرح ہے، لیکن ان سے پہلے ہمارے لیے مریضوں کی صحت اور زندگی اہم ہے۔ اگر ہڑتال کے باعث مریضوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تو حکومت خاموش تماشائی نہیں بنی رہے گی۔
وزیر صحت نے اس بات کی وضاحت کی کہ 108 ایمبولینس خدمات کو حکومت براہِ راست نہیں چلاتی بلکہ یہ نجی کمپنیوں کے سپرد ہے۔ انہوں نے کہا کہ عملے کی تقرری، یونیفارم، تربیت اور گاڑیوں کی دیکھ بھال کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ کمپنیوں پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ڈرائیوروں یا دیگر عملے کو تنخواہ یا دیگر مطالبات کے حوالے سے مسائل ہیں تو وہ براہِ راست کمپنی انتظامیہ سے بات کریں۔ اگر معاہدے کے مطابق تنخواہ نہیں دی جا رہی ہے تو یہ معاملہ حکومت کے علم میں لایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی کمپنی اپنے عملے کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اسے معاہدہ ختم کر کے چلے جانا چاہیے، حکومت نے اس خدمت کے لیے نیا ٹینڈر طلب کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یو ٹی قادر نے سخت لہجے میں خبردار کیا کہ نئے ٹینڈر کی اس عبوری مدت کے دوران اگر ایمبولینس سروسز متاثر ہوئیں اور مریضوں کو تکلیف پہنچی تو ذمہ داران کے خلاف بغیر کسی رعایت کے سخت قدم اٹھایا جائے گا۔




