بھٹکل (فکروخبر نیوز) بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے زیرِ اہتمام کل رات بعد عشاء آمنہ پیلیس، بھٹکل میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان پر ایک عظیم الشان اجلاسِ عام کا انعقاد عمل میں آیا، جس کا عنوان تھا "راستہ ہے تو بس راستہ آپ ﷺ کا”۔
اس روحانی محفل میں مولانا عبد السبحان ناخدا ندوی مدنی نے بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کی اور اپنے فکر انگیز خطاب سے حاضرین کے قلوب کو منور کیا۔ مولانا نے اپنے بیانات میں سیرتِ طیبہ کی عالمگیر اہمیت، اس کے مختلف پہلوؤں اور موجودہ دور میں اسوۂ رسول ﷺ پر سچے دل سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسان کی انفرادی، خانگی اور اجتماعی زندگی کی واقعی کامیابی صرف اور صرف نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور ان کے بتائے ہوئے راستے کی اتباع میں مضمر ہے۔ اس اجلاس کی ایک خاص پیشکش مختلف ملی اسکولوں کے باصلاحیت طلباء کی جانب سے پیش کیا جانے والا دلوں کو گرما دینے والا اجتماعی نعتیہ کلام رہا، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔
مہمانِ خصوصی اور دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استادِ تفسیر و حدیث مولانا عبد السبحان ناخدا ندوی مدنی نے اپنے فکر انگیز خطاب میں آپ ﷺ کی مبارک زندگی کی اہمیت اور اس کی جامعیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی سیرت قیامت تک کے تمام انسانوں کے لیے کامرانی اور ہدایت کا واحد ذریعہ ہے، اور آپ ﷺ کے راستے پر چلے بغیر دنیا اور آخرت میں سرخروئی ممکن نہیں۔ مولانا نے اس بات پر زور دیا کہ آج کے اخلاقی بگاڑ، بے دینی اور خاندانی و معاشرتی مسائل کا واحد علاج آپ ﷺ کی سنتوں پر سچے دل سے عمل کرنا ہے۔ انہوں نے خصوصاً نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ اپنا وقت اور صلاحیتیں ضائع کرنے کے بجائے سنتِ نبوی کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیرت کے جلسوں کا اصل مقصد صرف تقاریر اور نعتیں سننا نہیں، بلکہ اپنے اخلاق، گھروں اور روزمرہ کے معاملات کو نبوی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا ہے تاکہ ایک بہترین اور مثالی معاشرہ قائم ہو سکے۔

مولانا نے آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دینِ اسلام کی شکل میں اپنی تمام نعمتیں مکمل کر دی ہیں، اس لیے اب ہمیں کسی اور چیز کی نہیں بلکہ اللہ کی دی ہوئی شریعت کو مضبوطی سے تھامنے کی ضرورت ہے۔ جب انسان کے اندر عمل اور تقویٰ کا جذبہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ اور اس کے رسول کا بتایا ہوا راستہ پوری طرح روشن ہو جاتا ہے اور کسی دوسرے راستے کی حاجت نہیں رہتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسان کی توفیق اور اللہ کی مدد کا دارومدار اس کے ارادوں اور نیت پر ہے، اس لیے مسلمانوں کو اپنے عزائم مضبوط رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے تذکرہ کیا کہ ہماری یہ سوچ غلط ہے کہ دنیا کے کام تو محنت اور پکے ارادوں سے پورے ہوں لیکن دین کے کام صرف تمناؤں اور خیالات سے ہو جائیں؛ دین کے لیے بھی ویسی ہی سچی محنت اور پکے ارادے کی ضرورت ہے۔
اجلاس کا آغاز قاری احمد کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ رائد قاضی نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتِ پاک کا ہدیہ پیش کیا۔ نظامت کے فرائض مولوی بشاررکن الدین ندوی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ اس موقع پر بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے سکریٹری مولانا سید احمد ایاد ایس ایم ندوی نے فیڈریشن کے اغراض و مقاصد اور اس کی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

اجلاس کا صدارتی خطاب صدر فیڈریشن مولانا وصی اللہ ندوی نے پیش کیا، جبکہ جنرل سکریٹری فیڈریشن مبشر حسین ہلارے نے تمام مہمانوں، علماء اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔


اسٹیج پر مہتمم جامعہ اسلامیہ بھٹکل مولانا مقبول احمد ندوی، نائب قاضی جماعت المسلمین بھٹکل مولانا محمد انصار ندوی مدنی اور جنرل سکریٹری مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل مولانا عزیز الرحمن ندوی سمیت دیگر ذمہ داران و علمائے کرام موجود تھے۔ اس پروگرام میں بھٹکل اور اطراف و اکناف سے عوام الناس بالخصوص نوجوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔









