مرڈیشور (فکروخبر نیوز) مرڈیشور کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسکول کے طلبہ کے سرپرستوں کے درمیان’’میں اور میرا سرپرست‘‘ کے عنوان سے سیرتِ نبوی ﷺ کوئز کا انعامی پروگرام نیشنل ہائی اسکول مرڈیشور میں منعقد ہوا۔ پروگرام میں مقررین نے بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت کے لیے والدین اور سرپرستوں کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے سیرتِ رسول ﷺ کو عملی زندگی کا حصہ بنانے پر زور دیا۔
یہ مسابقہ اپنی نوعیت کا منفرد مسابقہ تھا جس میں بچوں کے بجائے ان کے سرپرستوں کو سیرت سے جوڑنے کی کوشش کی جو مولانا عبدالباری ندوی رحمۃ اللہ علیہ دینیات کلب، نیشنل ہائی اسکول مرڈیشور اور مولانا محمد مبین خان ندوی رحمۃ اللہ علیہ دینیات کلب، سرکاری اردو ماڈل بوائز پرائمری اسکول مرڈیشور کے زیرِ اہتمام منعقد کیا گیا۔ مسابقے کے لیے پہلے 100 سوالات فراہم کیے گئے تھے، جن میں سے 60 سوالات کے جوابات دینے تھے۔ 24 اگست کو دو مراکز، سرکاری اردو پرائمری ماڈل بوائز اسکول مرڈیشور اور نیشنل ہائی اسکول مرڈیشور میں منعقدہ امتحان میں تقریباً 60 سرپرستوں نے حصہ لیا۔
انعامی پروگرام کا آغاز محمد فرقان کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ آمنہ سرور نے اپنی سریلی آواز میں نعتِ رسول ﷺ پیش کی۔ مولانا شقران ندوی نے مسابقے کے اغراض و مقاصد بیان کیے، جبکہ حافظ سعدان خان نے مہمانوں کا استقبال کیا اور نظامت کے فرائض بھی انجام دیے۔ تقریب کی صدارت مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر عثمان آرمار نے کی، جبکہ مولانا ابوالاعلیٰ گنگاولی ندوی، مہتمم مدرسۃ الفائزات، مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔
اپنے خطاب میں مولانا ابوالاعلیٰ گنگاولی ندوی نے کہا کہ نونہالانِ قوم کو بے راہ روی سے بچانے اور ان کی اچھی تربیت کے لیے اسوۂ رسول ﷺ کو اپنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیرتِ نبوی ﷺ محض ایک تاریخی واقعہ یا کہانی نہیں بلکہ دستورِ حیات ہے، جسے ہر مسلمان کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے موجودہ دور میں بچوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رات دیر تک بچوں کا گھر سے باہر رہنا اور ان میں دینی و اخلاقی کمزوری پیدا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ انہیں سیرتِ نبوی ﷺ کی تعلیمات سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔
صدرِ جلسہ ڈاکٹر عثمان ارمار نے مسابقے میں شریک تمام سرپرستوں کو مبارکباد پیش کی اور دین سے اپنے تعلق کو مضبوط بنانے، بچوں کی صحیح تربیت کرنے اور ان کی زندگی میں اسلامی تعلیمات کو شامل کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے اس طرح کے دینی و تربیتی پروگراموں کو معاشرے کے لیے مفید قرار دیا۔
مسابقے میں چار سرپرستوں نے یکساں نمبرات حاصل کیے، جس کے بعد قرعہ اندازی کے ذریعے اول، دوم اور سوم انعامات کے مستحقین کا انتخاب کیا گیا۔ اول انعام 3000، دوم 2000 اور سوم 1000 روپے مقرر تھا۔ نیشنل ہائی اسکول کے دسویں جماعت کے طالب علم ابوروحان ابن محمد شفیع بڈنا کی سرپرست عاطفہ پروین نے اول، سرکاری اردو ماڈل بوائز پرائمری اسکول کی طالبہ رائفہ بنت عبدالرزاق ڈونا کی سرپرست ثمرہ ثنا نے دوم، جبکہ سرکاری اردو پرائمری اسکول، نیشنل کالونی کی طالبہ خدیجہ نور بنت عرفات الجی کی سرپرست نسرین الجی اور سرکاری اردو گرلز پرائمری اسکول کی طالبہ اقراء بنت وریث کی سرپرست نازیہ سرور نے سوم مقام حاصل کیا۔
مسابقے میں حصہ لینے والے دیگر تمام سرپرستوں کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی تشجیعی انعامات دیے گئے۔ پروگرام کے اختتام پراستاد نیشنل ہائی اسکول مرڈیشور و نائب ناظم مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن تینگن گنڈی مولانا عبدالمتین ندوی نے کلماتِ تشکر پیش کیے۔




