نیپال کے دریاؤں بھوٹے کوشی اور ترشولی میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی آر آر ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 626 افراد کی اموات کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 2,426 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ تباہی کے مرکز چتوان ضلع میں سب سے زیادہ 233 لاشیں برآمد کی گئی ہیں، جبکہ نوالپراسی، نواکوٹ، گورکھا، دھاڈنگ، تناہون اور راسووا اضلاع سے بھی درجنوں لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ سیلاب کے باعث 101 افراد شدید زخمی حالت میں ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
حکام کے مطابق لاپتہ افراد کی فہرست میں عام شہریوں کے علاوہ نیپالی فوج کے 45، نیپال پولیس کے 27، مسلح پولیس فورس کے 13 اور کسٹمز و امیگریشن کے متعدد اہلکار بھی شامل ہیں۔ دشوار گزار پہاڑی خطوں میں واقع ہائیڈرو پاور پروجیکٹس پر کام کرنے والے 933 سے زائد افراد اور راسووا سے 562 شہری طوفانی ریلوں کے بعد سے غائب ہیں۔ اس آفت میں غیر ملکی سیاح اور کارکنان بھی متاثر ہوئے ہیں، جن میں 517 غیر ملکی شہری اور لانگٹانگ نیشنل پارک سے تین افراد شامل ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
بحران کے دوران شروع کی گئی مشترکہ کارروائیوں میں اب تک 4,451 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جا چکا ہے۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ترشولی-ون ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے 63 ملازمین اور تمل ناڈو کے 21 باشندوں سمیت 84 ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت نکال کر وطن پہنچا دیا گیا ہے۔ تقریباً 149 ہندوستانی سرحد پار چین سے نیپال واپس آئے ہیں، جبکہ سفارتی ذرائع مواصلاتی تعطل کے باعث پھنسے دیگر شہریوں سے رابطہ قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
سیلاب کے فوری بعد کھٹمنڈو میں انتظامی ردعمل تیز کر دیا گیا ہے۔ نیپالی فوج، مسلح پولیس اور نیپال پولیس کے 15,431 سے زائد اہلکار ریسکیو مشن میں تعینات ہیں۔ ہیلی کاپٹر شٹل پروازوں کے ذریعے سرنگوں اور کٹے ہوئے دیہاتوں میں پھنسے سینکڑوں افراد کو نکالا جا چکا ہے۔ تباہ شدہ زمینی رابطوں کی فوری بحالی کے لیے ہندوستان اور چین سے دس طویل بیلی پلوں کی فراہمی کی درخواست کی گئی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں اشیائے ضروریہ، ایندھن اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا سلسلہ ہنگامی بنیادوں پر بحال کیا جا رہا ہے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام کے مطابق آئندہ گھنٹوں میں پہاڑی علاقوں میں مزید شدید بارشوں کے خدشے کے پیش نظر ہائی رسک زونز سے آبادیوں کا انخلاء تیز کر دیا گیا ہے۔ شہریوں کو ممکنہ خطرات سے آگاہ رکھنے کے لیے لاکھوں ایس ایم ایس الرٹس بھیجے گئے ہیں، جبکہ بنیادی ڈھانچے، سڑکوں اور بجلی کے نظام کو بحال کرنے کا کام مسلسل جاری ہے۔




