آئی فون کی ضد اور موت کے منہ تک پہنچتا ہوا ایک پورا گھر

محمد نصر الله ندوی
مہاراشٹر سے کل ایک ایسی دلدوز خبر آئی جس نے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ایک انیس سالہ نوجوان صرف آئی فون کی ضد میں پہاڑ کے کنارے جا کھڑا ہوا۔ ماں باپ کو جب اس خطرناک صورتِ حال کا علم ہوا تو ان کے ہوش اڑ گئے۔ فوراً پولیس اور ریسکیو ٹیم کو بلایا گیا۔ تقریباً تین گھنٹے تک اسے سمجھانے، منانے اور زندگی کی طرف واپس لانے کی کوشش کی جاتی رہی۔ والدین گڑگڑاتے رہے، منت سماجت کرتے رہے، مگر نوجوان پر آئی فون کا ایسا جنون سوار تھا کہ کسی بات کا اس پر اثر نہ ہوا۔
وہ مسلسل کھائی میں کود کر اپنی جان دینے کی دھمکیاں دیتا رہا۔ آخرکار باپ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ وہ بیٹے کے قریب پہنچا اور اسے اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی۔ باپ نے جیسے ہی بیٹے کا ہاتھ پکڑا، نوجوان نے اچانک چھلانگ لگا دی۔ بیٹے کے اچانک جھٹکے سے باپ بھی اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور کھائی میں جا گرا۔
یہ منظر دیکھ کر ماں کی ممتا بھی صبر کا دامن چھوڑ بیٹھی۔ وہ بھی بے اختیار کھائی میں کود گئی۔
اور یوں، ایک موبائل فون کی ضد، ایک لمحے کی بے قابو جذباتیت اور چند سیکنڈ کی بے احتیاطی نے پورے خاندان کو موت کے منہ میں پہنچا دیا۔
یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا سانحہ نہیں، ہمارے پورے معاشرے کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک نوجوان کے ذہن میں آخر ایسی کون سی کیفیت پیدا ہوگئی کہ ایک موبائل فون اس کے لیے اپنی جان، اپنے مستقبل اور اپنے ماں باپ کی زندگی سے بھی زیادہ قیمتی ہوگیا؟
یہاں اصل مسئلہ آئی فون نہیں، ذہنیت ہے۔ آئی فون تو محض ایک چیز ہے؛ اصل المیہ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل میں بعض اوقات خواہش اور ضرورت کا فرق مٹتا جارہا ہے۔ جو چیز پسند آگئی، وہ چاہیے؛ جو چیز دوسروں کے پاس ہے، وہ ہمارے پاس بھی ہونی چاہیے؛ اور اگر خواہش پوری نہ ہو تو غصہ، احتجاج، بغاوت حتیٰ کہ خود کو نقصان پہنچانے کی دھمکی!
یہ کیفیت صرف بچوں کی نہیں، والدین کے لیے بھی ایک بڑا سوال ہے۔ کیا ہم نے اپنی اولاد کو ہر خواہش فوراً پوری کرکے یہ باور تو نہیں کرا دیا کہ دنیا کی ہر مطلوب چیز ان کا حق ہے؟ کیا ہم نے انہیں یہ سکھایا کہ زندگی میں ہر خواہش پوری نہیں ہوتی، بعض خواہشوں کو قربان کرنا پڑتا ہے، بعض چیزوں کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے اور کبھی کبھی "نہیں” سن کر بھی مسکرانا پڑتا ہے؟
اولاد سے محبت فطری ہے، لیکن بے جا لاڈ محبت نہیں، تربیت کی کمزوری بن سکتا ہے۔ بچے کی ہر ضد پر جھکا ہوا والدین کا سر بظاہر محبت کا اظہار ہوتا ہے، مگر مستقبل میں یہی رویہ بچے کو ضدی، خود پسند اور کم برداشت انسان بنا سکتا ہے۔
ہمیں اپنی اولاد کو مہنگے موبائل، قیمتی لباس اور جدید سہولتیں دینے سے پہلے صبر، قناعت، برداشت، شکر اور زندگی کی قدر سکھانی ہوگی۔ اسے یہ سمجھانا ہوگا کہ انسان کی قیمت اس کے موبائل سے نہیں، اس کے کردار سے ہوتی ہے؛ عزت اس چیز سے نہیں ملتی جو ہاتھ میں ہو، بلکہ اس انسانیت سے ملتی ہے جو دل میں ہو۔
اور والدین کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب کوئی بچہ انتہائی غصے میں خود کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دے تو اسے محض "ضد” سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ایسی صورت میں بحث، ڈانٹ اور جذباتی دباؤ کے بجائے فوری طور پر اسے محفوظ جگہ پر لانا، ماہرین اور متعلقہ اداروں سے مدد لینا اور صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔
آج موبائل فون ہماری ضرورت بن چکا ہے، مگر ضرورت اور جنون کے درمیان ایک بہت باریک لکیر ہے۔ جب کوئی چیز ہمارے ہاتھ میں رہنے کے بجائے ہمارے ذہن پر قابض ہوجائے، جب وہ ہماری خوشی کا واحد ذریعہ بن جائے، جب اس کے حصول کے لیے رشتے، اخلاق اور حتیٰ کہ زندگی بھی بے معنی محسوس ہونے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں، ہماری ترجیحات کا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف دنیا میں کامیاب ہونے کی تعلیم دے رہے ہیں یا ناکامی اور محرومی کو برداشت کرنے کا ہنر بھی سکھا رہے ہیں؟ کیونکہ زندگی میں ہر خواہش پوری نہیں ہوتی، ہر مقابلے میں کامیابی نہیں ملتی، ہر چیز ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہوتی۔ جو شخص ان حقیقتوں کو برداشت کرنا نہیں سیکھتا، وہ معمولی سی ناکامی کو بھی زندگی کا سب سے بڑا المیہ سمجھ سکتا ہے۔
ہمیں اپنی نسل کو یہ پیغام دینا ہوگا:
موبائل ٹوٹ جائے تو دوبارہ خریدا جاسکتا ہے، خواہش پوری نہ ہو تو کچھ عرصہ انتظار کیا جاسکتا ہے، دولت دوبارہ کمائی جاسکتی ہے؛ لیکن انسانی جان واپس نہیں آتی، اور ماں باپ کا سایہ دنیا کی کسی قیمت پر دوبارہ نہیں ملتا۔
یہ سانحہ ایک نوجوان کی ضد سے شروع ہوا تھا، مگر اس نے پورے معاشرے کے سامنے ایک بہت بڑا سوال رکھ دیا ہے:
ہم اپنی اولاد کے ہاتھ میں موبائل تو دے رہے ہیں، لیکن کیا ہم نے انہیں زندگی کی قدر بھی سکھائی ہے؟
اور شاید اس سوال کا جواب تلاش کرنا آج پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔

شیئر کریں۔