صحافیوں اور یوٹیوبرز کی اسکولوں میں انٹری بند : سپریم کورٹ پہونچا معاملہ

راجستھان اور اتر پردیش کی ریاستی حکومتوں کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں بیرونی افراد، صحافیوں اور یوٹیوبرز کے داخلے پر عائد کی گئی پابندی کا معاملہ اب سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ اس متنازعہ انتظامی سرکلر کو منسوخ کرانے کے لیے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ہے اور اس حکومتی اقدام کو آئین ہند میں دیے گئے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ میں یہ اہم عرضی وکیل نریندر مشرا کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ریاستی حکومتوں کے اس سرکلر کو فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے۔ اس عرضی میں مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ تمام ریاستی حکومتوں کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں واضح موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومتوں کا یہ حکم آئین ہند کی دفعہ چودہ، انیس، اکیس اور اکیس اے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان دفعات کے تحت شہریوں کو مساوات، آزادی اظہار رائے اور تعلیم و زندگی کے بنیادی حقوق فراہم کیے گئے ہیں، جنہیں اس انتظامی حکم نامے کے ذریعے سلب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق حال ہی میں راجستھان اور اتر پردیش کے محکمہ تعلیم نے سرکاری اسکولوں کے لیے نئی سخت گائیڈ لائنز جاری کی تھیں۔ سولہ اگست کو راجستھان حکومت کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں اسکول کے احاطے میں کسی بھی بیرونی شخص، صحافی، یوٹیوبر اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے داخلے کو سختی سے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ طلبہ یا اسکول کی سرگرمیوں سے متعلق کسی بھی قسم کی فوٹو گرافی، ویڈیو گرافی، انٹرویو یا لائیو اسٹریمنگ پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ نئے احکامات کی رو سے اب کسی بھی بیرونی شخص کو اسکول میں داخل ہونے سے قبل پرنسپل یا مجاز افسر سے پیشگی اجازت لینا لازمی ہوگا۔ اجازت ملنے پر بھی وزیٹر کو رجسٹر میں مکمل اندراج کرنا ہوگا اور وہ کسی استاد کی غیر موجودگی میں کلاس روم، لیبارٹری یا کھیل کے میدان میں نہیں جا سکے گا۔

اس پابندی کے نفاذ کے بعد عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ اسکولوں میں شفافیت اور تعلیمی نظام کی خامیوں کو منظر عام پر لانے والے آزاد صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس پابندی کا اصل مقصد سرکاری اسکولوں کی بدحالی، اساتذہ کی غیر حاضری اور بنیادی سہولیات کے فقدان جیسی خامیوں کو عوام کی نظروں سے چھپانا ہے۔ ایک جمہوری نظام میں عوام کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ سرکاری محکمے اور تعلیمی ادارے کس طرح کام کر رہے ہیں۔

اب تمام تر نظریں سپریم کورٹ کے فیصلے پر مرکوز ہیں کہ وہ اس عرضی کو سماعت کے لیے کب منظور کرتی ہے۔ اگر عدالت عظمیٰ اس سرکلر کو غیر آئینی قرار دیتی ہے، تو یہ آزادی صحافت اور معلومات تک رسائی کے حوالے سے ایک بڑی قانونی فتح ہوگی۔ اس کے برعکس، اگر اس پابندی کو برقرار رکھا گیا تو دیگر ریاستیں بھی اپنے اسکولوں میں میڈیا کے داخلے کو روکنے کے لیے ایسے ہی قوانین نافذ کر سکتی ہیں، جو نظام میں موجود خامیوں کی پردہ پوشی کا سبب بنے گا۔

ایک صحت مند معاشرے میں تعلیمی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے میڈیا کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ کا آئندہ فیصلہ نہ صرف راجستھان اور یوپی کے سرکاری اسکولوں کے مستقبل کا تعین کرے گا، بلکہ یہ پورے ملک میں معلومات تک رسائی اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے ایک اہم نظیر بھی ثابت ہوگا۔

شیئر کریں۔