مہاراشٹر کے چھترپتی سمبھاجی نگر میں ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک انیس سالہ نوجوان کی مہنگے موبائل فون کی ضد نے پورے خاندان کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ تِسگاؤں کی کھاولیہ پہاڑی پر پیش آنے والے اس واقعے میں ٹرک ڈرائیور باپ، ماں اور انیس سالہ بیٹے کی جان چلی گئی۔ یہ سانحہ جمعہ اکیس اگست کو اس وقت پیش آیا جب نوجوان نے آئی فون کی قسط ادا نہ ہونے پر ذہنی دباؤ میں آکر خودکشی کی دھمکی دی تھی۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق انیس سالہ کُنتال چھنگوڑے اپنے مہنگے آئی فون کی قسطیں ادا نہ کر پانے کی وجہ سے شدید ذہنی الجھن کا شکار تھا۔ اس کے والد اڑتالیس سالہ مُرلیدھر جو کہ پیشے سے ٹرک ڈرائیور تھے، محض دو روز قبل ہی کام سے گھر لوٹے تھے۔ کُنتال کی آئی فون کی قسط باؤنس ہو گئی تھی اور معاشی تنگی کے سبب اس کے لیے مزید ادائیگی ناممکن ہو رہی تھی۔ اسی معاملے پر اس کا گھر میں شدید جھگڑا ہوا اور وہ انتہائی قدم اٹھانے کے ارادے سے کھاولیہ پہاڑی پر چڑھ گیا۔ صبح دس بجے کے قریب مقامی دیہاتیوں اور موقع پر پہنچنے والی پولیس نے اسے سمجھانے کی بھرپور کوشش کی۔
جب نوجوان نے پہاڑی سے کودنے کی دھمکی دی تو اس کے والدین اسے بچانے کے لیے تیزی سے آگے بڑھے۔ اس کشمکش کے دوران جب والد نے بیٹے کو محفوظ مقام کی جانب کھینچنے کی کوشش کی تو دونوں کا توازن بگڑ گیا اور باپ بیٹا سیدھے پہاڑی سے نیچے کھائی میں جا گرے۔ اپنے شوہر اور جوان بیٹے کو آنکھوں کے سامنے اس طرح موت کے منہ میں جاتا دیکھ کر بیالیس سالہ والدہ سنگیتا چھنگوڑے یہ گہرا صدمہ برداشت نہ کر سکیں اور انہوں نے بھی اسی مقام سے چھلانگ لگا کر موقع پر ہی اپنی جان دے دی۔
ابتدائی مالومات کے مطابق کُنتال ایک ہونہار طالبعلم تھا جس نے دسویں جماعت کے امتحانات میں بانوے فیصد نمبر حاصل کیے تھے اور وہ میڈیکل کے داخلہ امتحان نیٹ (NEET) کی تیاری کر رہا تھا۔ تاہم اس پر دکھاوے اور مہنگے فون کا جنون اس قدر سوار تھا کہ گزشتہ برس بھی اس نے آئی فون حاصل کرنے کے لیے پہاڑی پر چڑھ کر خودکشی کی کوشش کی تھی۔ اس واقعے کے بعد غریب والدین نے مجبوراً قسطوں پر اسے فون دلانے کا بندوبست کیا تھا۔ یہ خاندان پہلے ہی ایک بڑے صدمے سے گزر رہا تھا کیونکہ کُنتال کا ایک بڑا بھائی چند سال قبل بیماری کے باعث انتقال کر گیا تھا، جس کی وجہ سے والدین پہلے ہی شدید ذہنی دباؤ میں تھے۔
اس واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے اور معاشرے میں جدید ٹیکنالوجی کے منفی اثرات اور نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی مادہ پرستی پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ضابطے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ یہ سانحہ والدین اور معاشرے کے لیے ایک سخت انتباہ ہے کہ مادی خواہشات کا جنون کس طرح ایک پورے خاندان کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین نفسیات کا مشورہ ہے کہ ذہنی دباؤ یا خودکشی کے خیالات آنے کی صورت میں تنہا رہنے کے بجائے فوری طور پر مدد کے لیے قائم ہیلپ لائنز سے رابطہ کرنا چاہیے۔




