کرناٹک میں غیر معیاری غذا اور نقلی ادویات کی نگرانی کے لیے ‘واچ ٹیمیں’ تشکیل دینے پر غور: یو ٹی قادر

منگلورو: کرناٹک میں غیر معیاری یا ملاوٹ شدہ غذائی اشیاء اور جعلی و نقلی ادویات کی فروخت پر قابو پانے کے لیے ریاستی حکومت نے ضلع اور تعلقہ کی سطح پر خصوصی ‘واچ ٹیمیں’ (Watch Teams) تشکیل دینے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس بات کا اظہار ریاست کے وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود یو ٹی خادر نے منگلورو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

عوامی شکایات کے لیے QR کوڈ کا اجراء وزیر صحت نے بتایا کہ عوام کی سہولت اور فوری شکایت درج کروانے کے لیے حکومت نے حال ہی میں ایک QR کوڈ سسٹم متعارف کرایا ہے۔ تمام ہوٹلوں، کھانے پینے کے مراکزی مقامات اور میڈیکل اسٹورز کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ اس QR کوڈ کو نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں۔ اس اقدام کو عوام کی جانب سے زبردست ردعمل ملا ہے اور صرف دو دنوں کے اندر 400 سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں، جن پر فوڈ سیفٹی آفیسرز کی جانب سے معائنے اور قانونی کارروائی جاری ہے۔

یوٹی قادر کے مطابق اگرچہ محکمہ کے افسران اپنے دائرہ کار میں معائنہ کر رہے ہیں، لیکن وسیع پیمانے پر نگرانی کے لیے عوام کی شمولیت ضروری ہے۔ مجوزہ واچ ٹیموں میں ریٹائرڈ سرکاری افسران ، سابق پروفیسر اور مضمون کے ماہرین اور سماجی خدمت میں دلچسپی رکھنے والے معزز اور سینئر شہری شامل ہوں گے۔ ان ٹیموں کو خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنے اور رپورٹ تیار کرنے کے لیے مخصوص اختیارات دینے پر بھی قانونی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

نقلی ادویات کے نیٹ ورک پر تشویش اور SIT کی تشکیل جعلی ادویات کے بڑھتے ہوئے خطرے پر بات کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ یہ نیٹ ورک صرف کرناٹک تک محدود نہیں ہے، بلکہ دیگر ریاستوں سے نقلی ادویات لا کر یہاں بیچنے کے شواہد ملے ہیں۔

حال ہی میں بیددی (Bidadi) کے قریب بے نقاب ہونے والے جعلی ادویات کے ریکیٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس بین الریاستی گٹھ جوڑ کی گہری تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی گئی ہے تاکہ اس پورے نیٹ ورک کا قلع قمع کیا جا سکے۔

شیئر کریں۔