بنگلورو: ریاست کرناٹک میں عوام کو معیاری اور صحت بخش غذا کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے محکمہ فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے ایک بڑی اور ریاست گیر مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس ڈرائیو کے تحت اب تک ریاست کے 1,849 ہوٹلوں اور فوڈ اؤٹ لیٹس کی ہنگامی تلاشی لی گئی اور 2,400 سے زائد غذائی اشیاء کے نمونے لیبارٹری جانچ کے لیے جمع کیے گئے ہیں۔
اس سلسلے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے وزیر صحت یو ٹی قادر نے بتایا کہ عوام کی صحت کی حفاظت اور ہوٹلوں میں صفائی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ محکمے کی جانب سے پس ماندہ طبقہ جات کے لیے قائم 629 ہوسٹلز کا معائنہ کر کے 1,860 غذائی نمونے حاصل کیے گئے، جبکہ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے تحت چلنے والے 331 ہوٹلوں و ہوسٹلوں سے مزید 556 نمونے اکٹھے کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 186 بس اسٹینڈز پر موجود 889 فوڈ اسٹالز کا معائنہ کیا گیا، جہاں شدید گندگی اور اصولوں کی خلاف ورزی پر 206 اداروں کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے اور 55 ہزار روپئے کا نقد جرمانہ وصول کیا گیا۔
ساحلی ضلع منگلورو میں بھی آن لائن ارڈر کے ذریعے خراب چکن کی سپلائی کی شکایت پر فوڈ سیفٹی حکام نے ایک مشہور فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹ پر ناگہانی چھاپہ مارا۔ معائنے کے دوران باورچی خانے اور کولڈ اسٹوریج میں سنگین بے ضابطگیاں پائے جانے پر آؤٹ لیٹ کے مرکزی گودام کو موقع پر ہی سیل کر دیا گیا اور فوڈ سیمپلز کو لیبارٹری تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ لیب رپورٹ موصول ہونے کے بعد مزید سخت قانون سازی اور انتظامی کارروائی کی جائے گی۔ اسی طرح میسورو میں بھی فوڈ سیفٹی ڈرائیو کے تحت کارروائیاں جاری ہیں۔
اس دوران ہندوستانی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی (FSSAI) نے بتایا کہ سرکاری نوٹس ملنے کے بعد 6 غذائی کمپنیوں نے اپنے پروڈکٹس سے گمراہ کن لیبلز اور ٹریڈ مارکس واپس لے کر اصلاحی اقدامات کیے ہیں۔ وزیر صحت یو ٹی قادر نے واضح کیا کہ فوڈ سیفٹی قوانین میں کسی قسم کی لاپرواہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور یہ مہم آنے والے دنوں میں مزید سخت کی جائے گی۔




