اتر پردیش کے ضلع سدھارتھ نگر کے موضع پپرا رام لال میں واقع تاریخی تعلیمی ادارے مدرسہ عربیہ ضیاء العلوم (مکتب مدرسہ) کے ایک بڑے حصے کو منگل کے روز ضلعی انتظامیہ نے بھاری پولیس فورس کی موجودگی میں بلڈوزر کے ذریعے منہدم کر دیا۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ کارروائی سرکاری اراضی پر مبینہ تجاوزات کے حوالے سے مقامی مجسٹریٹ عدالت کے فیصلے کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔ انہدام کی کارروائی کے دوران علاقے میں سخت کشیدگی دیکھی گئی اور مقامی آبادی سمیت سیاسی رہنماؤں نے موقع پر پہنچ کر شدید احتجاج کیا۔
دستیاب دستاویزات اور مقامی رپورٹس کے مطابق یہ مدرسہ تقریباً 14 ہزار مربع فٹ رقبے پر قائم ہے، جس کی بنیاد 1938 میں رکھی گئی تھی اور 1967 میں اسے موجودہ شاہراہ کے قریب منتقل کیا گیا تھا۔ اس دینی و عصری تعلیمی ادارے میں تقریباً 400 طلبہ زیر تعلیم تھے۔ تحصیلدار کی عدالت نے سال 2023 میں بے دخلی کا حکم دیا تھا جسے متولی عبدالسلام نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ڈی ایم) کی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ ڈی ایم کورٹ نے 14 اگست کو اپیل مسترد کرتے ہوئے تحصیلدار کے فیصلے کو برقرار رکھا، جس کے بعد مقررہ نوٹس کی مدت ختم ہوتے ہی منگل کی صبح سات بجے بھاری نفری کے ساتھ مسماری کا عمل شروع کر دیا گیا۔
ڈمری گنج کے ایس ڈی ایم وویکانند مشرا، سی او برجیش ورما اور بانسی سی او شیویندو سنگھ سمیت پانچ تھانوں کی پولیس فورس کی موجودگی میں دو گھنٹے تک چلنے والی اس کارروائی میں مدرسے کے سات کمرے، ایک دکان اور ہال کا نصف حصہ گرا دیا گیا۔ سرکاری افسران کا دعویٰ ہے کہ مدرسہ بنیادی طور پر نجی زمین پر قائم تھا لیکن بعد میں اس نے 9 ہزار مربع فٹ پر پھیلی سرکاری اراضی پر مبینہ طور پر توسیع کر لی تھی جو سرکاری ریکارڈ میں کھیل کے میدان کے طور پر درج ہے۔
اس بلڈوزر کارروائی کی خبر پھیلتے ہی ڈمری گنج سے سماجوادی پارٹی کی رکن اسمبلی سیدہ خاتون، ایس پی کے ضلعی صدر لال جی یادو اور پارٹی کے درجنوں کارکنان جائے وقوع پر پہنچ گئے اور کارروائی کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے نعرے بازی شروع کر دی۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی اور جھڑپیں بھی ہوئیں، جس کے بعد پولیس نے راستوں پر بیریکیڈنگ لگا دی۔ سیاسی جماعتوں اور مسلم رہنماؤں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی اور اقلیتی اداروں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے مترادف قرار دیا ہے۔
مسلم تنظیموں، انسانی حقوق کے رضاکاروں اور قانونی ماہرین کا موقف ہے کہ دہائیوں پرانے تعلیمی اداروں کو بے دخلی کے مختصر نوٹس پر منہدم کرنا سینکڑوں غریب طلبہ کے تعلیمی حقوق اور مستقبل کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔




