مسلم تنظیموں کی ریاستی کانگریس صدر بی کے ہری پرساد اور دیگر لیڈران سے ملاقات
بنگلورو (فکروخبر نیوز) کرناٹک میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں سے متعلق کانگریس کے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے مختلف مسلم رہنماؤں اور تنظیموں کی ایک اہم نشست بنگلورو میں منعقد ہوئی۔ اجلاس میں ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ سابق بی جے پی حکومت کے دور میں ختم کیے گئے 2B ریزرویشن کو بحال کیا جائے، انسدادِ تبدیلیٔ مذہب قانون واپس لیا جائے اور کرناٹک پریوینشن آف سلاٹر اینڈ پریزرویشن آف کیٹل ایکٹ 2020 کو منسوخ یا اس میں ضروری ترمیم کی جائے۔ رہنماؤں نے کہا کہ یہ وہ اہم وعدے ہیں جنہیں کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں شامل کیا تھا، اس لیے حکومت کو انہیں بلا تاخیر عملی جامہ پہنانا چاہیے۔
نشست میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے سالانہ 10 ہزار کروڑ روپے مختص کرنے کے وعدے کو پورا کرنے، ریاست میں اوقاف کی املاک کے تحفظ اور ترقی کے لیے مؤثر منصوبہ بندی، سماجی و تعلیمی سروے رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، نفرت پر مبنی جرائم اور پروپیگنڈے کی روک تھام کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ آبادی کے تناسب سے مسلمانوں کو قانون ساز اداروں اور ریاستی اداروں کے سربراہان سمیت مختلف سطحوں پر مناسب نمائندگی دی جانی چاہیے۔
اس موقع پر بی کے ہری پرساد کے ساتھ مسلم نمائندوں کی ایک خصوصی نشست بھی ہوئی، جس میں ان مطالبات اور حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ہری پرساد نے یقین دہانی کرائی کہ وہ آئندہ سرمائی اسمبلی اجلاس تک ان مطالبات کو آگے بڑھانے اور وعدوں کی تکمیل کے لیے اپنی جانب سے کوشش کریں گے۔ انہوں نے مسلم نمائندہ وفد کو مشورہ دیا کہ ان مسائل کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا سے بھی ملاقات کرے۔
اجلاس کے دوران یو ٹی قادر، بلقیس بانو اور عبدالجبار سمیت دیگر مسلم رہنماؤں کے ساتھ بھی الگ الگ نشستیں منعقد ہوئیں، جن میں اقلیتوں سے متعلق مسائل اور حکومت کے وعدوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ کسان یونین کے نمائندوں اور رہنماؤں کے ساتھ الگ ملاقات میں کسانوں کے مسائل پر گفتگو ہوئی، جبکہ عیسائی برادری کے نمائندہ رہنماؤں کے ساتھ بھی خصوصی نشست منعقد کی گئی۔
شرکاء نے خصوصاً تبدیلیٔ مذہب اور گائے ذبیحہ سے متعلق سابق بی جے پی حکومت کے قوانین کو واپس لینے کے مطالبے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے سے قبل جو وعدے کیے تھے، اب انہیں پورا کرنے کا وقت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے ان وعدوں پر مؤثر پیش رفت نہیں کی تو کرناٹک بھر میں مسلمانوں کو منظم کرتے ہوئے ریاست گیر مہم چلائی جائے گی اور حکومت کو اپنے انتخابی وعدوں کی تکمیل کے لیے جواب دہ بنایا جائے گا۔




