شاہی عیدگاہ مسجد معاملہ: سپریم کورٹ نے نمائندگی کے کیس کو الہٰ آباد ہائی کورٹ واپس بھیجنے کا دیا اشارہ

متھرا کے تاریخی اور حساس شری کرشن جنم بھومی و شاہی عیدگاہ مسجد تنازعہ میں ایک اہم قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سپریم کورٹ نے بدھ کے روز سماعت کے دوران اشارہ دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں تمام مدعیان اور عقیدت مندوں کی نمائندگی سے متعلق دائر درخواست کو واپس الہٰ آباد ہائی کورٹ کے پاس بھیجنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کا ماننا ہے کہ ہائی کورٹ کو اس اہم قانونی نقطے پر تمام فریقین کو نوٹس جاری کر کے نئے سرے سے فیصلہ کرنا چاہیے۔

یہ معاملہ جسٹس سنجے کمار اور جسٹس سنجیو سچدیوا پر مشتمل بنچ کے سامنے سماعت کے لیے پیش ہوا۔ بنچ ایک ہندو فریق کی جانب سے دائر کردہ اس درخواست پر سماعت کر رہی تھی جس میں الہٰ آباد ہائی کورٹ کے سال 2025 کے ایک حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ایک الگ مقدمہ دائر کرنے والے ہندو فریق کو تمام عقیدت مندوں کا قانونی نمائندہ تسلیم کر لیا تھا، جس پر دوسرے ہندو فریقین نے اعتراض اٹھایا تھا۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی بنچ نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ہائی کورٹ نے تمام متعلقہ مدعیان اور فریقین کو نوٹس جاری کیے بغیر ہی دوسرے ہندو فریق کو نمائندگی کی اجازت دے دی تھی، جو کہ کارروائی کا طریقہ کار صحیح نہیں تھا۔ بنچ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے کے لیے عدالت اس معاملے کو الہٰ آباد ہائی کورٹ واپس بھیجنا چاہتی ہے۔ بنچ کے اس موقف کے بعد کچھ وکلاء نے بھی عدالت سے استدعا کی کہ معاملے کو ہائی کورٹ بھیجا جائے تاکہ وہاں نئے سرے سے حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔

شاہی عیدگاہ مسجد اور متھرا تنازعہ مذہبی آزادی، وقف املاک اور مسلم کمیٹی کے قانونی حقوق کے حوالے سے انتہائی اہم اور حساس نوعیت کا حامل ہے۔ سپریم کورٹ میں مسجد کمیٹی اور ہندو فریقین کی طرف سے متعدد درخواستیں زیرِ التوا ہیں، جن میں ہائی کورٹ کے 26 مئی 2023 کے اس فیصلے کو بھی چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت متھرا کی مقامی عدالت میں زیرِ التوا تمام مقدمات کو الہٰ آباد ہائی کورٹ منتقل کر دیا گیا تھا۔ مسلم فریقوں کا مسلسل یہ موقف رہا ہے کہ عبادت گاہوں سے متعلق ایکٹ (Places of Worship Act 1991) کے تحت تاریخی مساجد کی حیثیت کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے تمام فریقین کے دلائل اور قانونی نکات کا جائزہ لیتے ہوئے اس مخصوص درخواست پر اگلی سماعت 2 ستمبر کے لیے مقرر کر دی ہے۔ آئندہ سماعت میں اس بات کا باضابطہ حکم جاری ہونے کا امکان ہے کہ آیا یہ معاملہ الہٰ آباد ہائی کورٹ کو واپس بھیجا جائے گا تاکہ تمام فریقین کو سن کر نمائندگی کا شفاف فیصلہ کیا جا سکے۔

شیئر کریں۔