ہر سوال کا جواب دینے کےلئے تیار : امت شاہ کے بیان پر راہل گاندھی بولے ہمیں آپ کا لیکچر نہیں سننا ، سوالوں کے دیں جواب

قومی دارالحکومت نئی دہلی میں جاری پارلیمانی اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعطل انتہائی سنگین رخ اختیار کر گیا ہے۔ جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی اور دیگر عوامی مسائل پر اپوزیشن کے شدید ہنگامے کے باعث ایوان کی کارروائی مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔ اس تناظر میں پارلیمنٹ کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ وہ اپوزیشن کے ہر سوال کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور دیر رات تک بیٹھ کر بحث میں شامل ہونے کا چیلنج پیش کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے سخت موقف اپنائے رکھتے ہوئے وزیر داخلہ سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اپوزیشن ان کا کوئی لیکچر سننے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔

دستیاب اطلاعات اور ایوان کے احاطے میں ہونے والی پیش رفت کے مطابق، وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسپیکر کو خط سونپیں اور ایوان میں پارلیمانی قواعد و ضوابط کے مطابق تفصیلی بحث کا آغاز کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسپیکر اجازت دیں تو حکومت وقفۂ سوالات کو ملتوی کر کے بھی دوپہر 3 بجے سے بحث کے لیے تیار ہے، خواہ یہ کارروائی دیر رات یا اگلے دن تک چلے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت طلبہ احتجاج، نیٹ (NEET) کے معاملے اور دیگر تمام نکات پر اپنا موقف کھل کر سامنے رکھنا چاہتی ہے تاکہ ملک کے سامنے سچائی آ سکے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ وہ بار بار اپنے مطالبات بدل کر ایوان کی کارروائی میں خلل ڈال رہی ہے۔

اس پیشکش کے جواب میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے حکومت اور بالخصوص وزیر داخلہ پر برہمی کا اظہار کیا۔ راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ جنتر منتر پر پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں پر گولی چلانے اور کیل لگی لاٹھیوں سے پیٹنے کا حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ اگر یہ فیصلہ اور ہدایت وزیر داخلہ کی جانب سے تھی تو انہیں فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ اہم قومی اور عوامی مسائل پر ایوان کا سامنا کرنے کے بجائے حکومت محض بیانات تک محدود ہے اور نوجوان نسل وزیر داخلہ سے کسی قسم کا لمبا لیکچر سننے کے بجائے براہ راست جوابدہی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

پارلیمانی تعطل کے اس پس منظر میں جہاں ایک طرف طلبہ پر پولیس کے مبینہ تشدد کے خلاف اپوزیشن جماعتیں متحد نظر آ رہی ہیں، وہی سماجوادی پارٹی جیسے اہم حلیفوں نے رام مندر کے چندے میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں پر بھی حکومت سے جواب طلبی کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ حکومت کی جانب سے وزیر برائے پارلیمانی امور کرن ریجیجو نے بھی ایوان کو متحرک کرنے کے لیے اپوزیشن سے بحث میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے، تاہم اپوزیشن اپنے موقف پر قائم ہے کہ پہلے ذمہ داری طے کی جائے اور وزیر داخلہ استعفیٰ دیں۔

ایوان کے اندر اور باہر بڑھتے ہوئے اس سیاسی تناؤ کے باعث آئندہ دنوں میں بھی پارلیمانی کارروائی کے متاثر رہنے کا اندیشہ ہے۔ عوامی اور جمہوری نقطہ نظر سے پارلیمنٹ میں طویل تعطل کی وجہ سے عوامی اہمیت کے دیگر قانونی اور پالیسی سازی کے معاملات معطل ہو کر رہ گئے ہیں، اور عوام اب یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ آیا اسپیکر کی مداخلت یا حکومتی اپیل سے ایوان کا جمود ختم ہو پاتا ہے یا کارروائی اسی طرح ہنگامہ آرائی کی نذر رہے گی۔

شیئر کریں۔