کولکاتا سے چنئی جانے والی انڈیگو ایئرلائنز کی ایک مسافر بردار پرواز میں منگل کی رات اس وقت سنسنی پھیل گئی جب دورانِ پرواز طیارے کا بایاں انجن اچانک غیر فعال ہو گیا۔ اس سنگین تکنیکی خرابی کے فوراً بعد چنئی ایئرپورٹ پر ‘فل ایمرجنسی’ کا اعلان کر دیا گیا اور تمام ریسکیو ٹیموں کو الرٹ پر رکھ دیا گیا۔ تاہم، پائلٹس کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت فیصلے کی بدولت طیارے نے انتہائی دشوار حالات میں بحفاظت لینڈنگ کی، جس کے نتیجے میں عملے اور مسافروں سمیت تمام 224 افراد محفوظ رہے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق انڈیگو کی پرواز 6E-723 کولکاتا سے اپنے مقررہ وقت پر چنئی کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ لینڈنگ سے چند منٹ قبل جب طیارہ چنئی کی فضائی حدود کے قریب پہنچا تو پائلٹ کو بائیں انجن میں تکنیکی نقص اور اس کے مکمل طور پر بند ہونے کا اشارہ ملا۔ پائلٹ نے فوری طور پر ایئر ٹریفک کنٹرول (ATC) کو اطلاع دی اور ترجیحی بنیادوں پر ایمرجنسی لینڈنگ کی اجازت طلب کی۔ رات تقریباً 11 بجکر 29 منٹ پر ایئرپورٹ حکام نے چنئی کے رن وے پر مکمل ہنگامی حالت کا نفاذ کر دیا اور فائر ٹینڈرز، طبی عملے اور ریسکیو ٹیموں کو الرٹ پر لگا دیا گیا۔
شدید تشویش اور خوف کے ان لمحات میں پائلٹس نے انتہائی حواس برقرار رکھتے ہوئے طیارے کا کنٹرول سنبھالا اور رات 11 بجکر 37 منٹ پر رن وے 25 پر طیارے کو بحفاظت اتار لیا۔ لینڈنگ کے فوراً بعد تمام 224 مسافروں کو محفوظ طریقے سے باہر نکالا گیا جس پر مسافروں اور ایئرپورٹ انتظامیہ نے اطمینان کا سانس لیا۔ صورتحال مکمل طور پر قابو میں آنے کے بعد رات 11 بجکر 47 منٹ پر ایئرپورٹ پر نافذ ہنگامی حالت واپس لے لی گئی اور معمول کی فضائی عملیات بحال کر دی گئیں۔
بھارت میں حالیہ مہینوں کے دوران ہوائی اڈوں پر طیاروں میں تکنیکی خرابیوں اور ہنگامی لینڈنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس سے قبل دبئی سے ممبئی جانے والی ایک پرواز کو کارگو ہولڈ میں دھوئیں کی اطلاع پر گجرات کے راجکوٹ ایئرپورٹ پر ڈائیورٹ کرنا پڑا تھا۔ فضائی سفر کے دوران بار بار سامنے آنے والے ایسے ٹیکنیکل نقائص مسافروں کی تحفظ اور ایئرلائنز کی مینٹیننس کے معیارات پر سنگین سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔
اس واقعے کے بعد ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) اور تکنیکی ماہرین کی ٹیم نے انجن میں آنے والی خرابی کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ایوی ایشن حکام کے مطابق جانچ مکمل ہونے تک متعلقہ طیارے کو گراؤنڈ رکھا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے خطرناک حادثات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔




