جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی امتحانات میں اصلاحات کے مطالبے کو لے کر جاری طلباء کے احتجاج نے اب ایک بڑی تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے۔ دس اگست کو قانون ساز اسمبلی کے مجوزہ گھیراؤ کی کال پر ریاست بھر سے ہزاروں کی تعداد میں طلباء رانچی پہنچے، جس کے بعد انتظامیہ نے سخت کارروائی کرتے ہوئے پانچ سو سے زائد طلباء کو حراست میں لے لیا ہے۔ حراست میں لیے گئے تمام نوجوانوں کو بسوں کے ذریعے کیمپ جیل منتقل کیا جا رہا ہے۔ پرانی اسمبلی کی عمارت کے قریب واقع سردار پٹیل کے مجسمے کے پاس سڑکوں پر طلباء کا زبردست ہجوم موجود ہے جو مسلسل ریاستی حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہا ہے۔
اس احتجاج کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی بھرپور حمایت مل رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما پرتول شاہ دیو کو انتظامیہ نے گھر میں نظر بند کر دیا ہے اور ان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب قائد حزب اختلاف بابولال مرانڈی نے طلباء کے حق میں مورچہ سنبھالتے ہوئے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دیا ہے۔ ان کے ہمراہ آدتیہ ساہو، سی پی سنگھ اور نوین جیسوال سمیت متعدد اراکین اسمبلی اور کارکنان موجود ہیں جو امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ریاست کے مختلف اضلاع بالخصوص سنتھال، دیوگھر، دمکا، گوڈا، جامتاڑا اور مادھو پور سے طلباء ٹرینوں اور بسوں کے ذریعے دارالحکومت پہنچے ہیں۔ رانچی ریلوے اسٹیشن اور بس اسٹینڈز پر نوجوانوں کے بڑے بڑے گروپس دیکھے گئے جنہوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے۔ یہ طلباء سرکاری مسابقتی امتحانات میں بار بار ہونے والے پیپر لیک اور دھاندلیوں پر شدید مایوسی کا شکار ہیں اور ان کا موقف ہے کہ سخت محنت کرنے والے نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ مزید کھلواڑ برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
گزشتہ کئی دنوں سے رانچی کے جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں پرامن احتجاج کرنے والے ان طلباء کا ماننا ہے کہ جب تک سڑکوں پر نکل کر حکومت کو مجبور نہیں کیا جائے گا، ان کے مطالبات پر کان نہیں دھرے جائیں گے۔ طلباء کے اس غیر معمولی ہجوم اور بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر رانچی پولیس ہائی الرٹ پر ہے۔ شہر کے تمام داخلی راستوں، چوراہوں اور حساس مقامات پر سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے اور مسافروں کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی بھی کڑی تلاشی لی جا رہی ہے۔
موجودہ صورتحال نے ریاستی حکومت اور انتظامیہ کے لیے ایک سنگین چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ ایک طرف طلباء کسی بھی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں، تو دوسری جانب اپوزیشن اس مسئلے کو سیاسی طور پر پوری قوت سے اٹھا رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاستی حکومت ان امتحانات کے شفاف انعقاد اور طلباء کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے کیا ٹھوس اقدامات کرتی ہے، تاکہ ریاست میں امن و امان کی صورتحال معمول پر آ سکے اور نوجوانوں میں پھیلی بے چینی کا ازالہ ہو سکے۔




