طلبا پر پولیس تشدد اور امت شاہ کی خاموشی: راہل گاندھی کا سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کا مطالبہ

دہلی میں بیس جولائی کو مظاہرہ کرنے والے طلبا پر پولیس کی مبینہ بربریت کے خلاف لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیر داخلہ امت شاہ پر سخت تنقید کی ہے۔ کانگریس رہنما نے وزیر داخلہ کی مسلسل خاموشی کو تشدد کی کھلی منظوری قرار دیتے ہوئے ان سے فوری استعفے اور پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے سخت پیغام اور انگریزی روزنامہ دی ہندو میں لکھے گئے ایک تفصیلی مضمون میں راہل گاندھی نے پولیس ایکشن کی لرزہ خیز تفصیلات بیان کی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پرامن طریقے سے اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبا پر پیلیٹ گن، کیل لگی لاٹھیوں اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے تحریر کیا کہ پولیس اہلکاروں نے طالبات کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، کئی کے نازک اعضا پر چوٹیں آئیں اور نابالغ طلبا کی ہڈیاں تک توڑ دی گئیں۔ مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نوجوانوں کے سوالات کا جواب صرف بربریت سے دینا جانتی ہے۔

بیس جولائی کو پیش آنے والے اس پرتشدد واقعے کو تقریباً بیس دن گزر چکے ہیں، لیکن اپوزیشن کے مسلسل دباؤ کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس جواب نہیں دیا گیا۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے اس حساس مسئلے پر بحث کے لیے متعدد بار تحریکیں پیش کیں، جنہیں مسلسل مسترد کیا گیا۔ راہل گاندھی کے مطابق وزیر داخلہ نے اس واقعے پر نہ تو کوئی بیان جاری کیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی محکمانہ یا عدالتی کارروائی کا حکم دیا ہے۔

اس واقعے اور اس پر حکومتی بے حسی نے نظام عدل اور جمہوری حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دی ہندو کے مضمون میں راہل گاندھی نے دو ٹوک الفاظ میں لکھا کہ وزیر داخلہ کی اس مجرمانہ خاموشی کے صرف دو ہی مطلب ہو سکتے ہیں۔ یا تو انہوں نے خود طلبا پر اس حملے کی اجازت دی، جس کی صورت میں وہ براہ راست قصوروار ہیں، یا پھر انہیں اس سنگین واقعے کا علم ہی نہیں تھا، جو ان کی مکمل نااہلی کو ثابت کرتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ہی صورتوں میں اخلاقی اور آئینی ذمہ داری امت شاہ پر عائد ہوتی ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے واضح کیا ہے کہ جب تک ملوث افراد کا احتساب نہیں ہوتا اور متاثرہ طلبا کو انصاف نہیں ملتا، کانگریس کی یہ جمہوری جنگ جاری رہے گی۔ سیاسی حلقوں میں یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اپوزیشن اس معاملے کو سڑکوں سے لے کر عدالتوں تک بھرپور طریقے سے اٹھائے گی اور حکومت پر اعلیٰ سطحی تحقیقات کے لیے دباؤ مزید بڑھایا جائے گا۔

جمہوری معاشروں میں پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور طلبا پر طاقت کا اندھا دھند استعمال جمہوری اقدار کے صریح منافی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اپوزیشن کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سپریم کورٹ کی نگرانی میں غیر جانبدارانہ تفتیش یقینی بنائے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکے۔

شیئر کریں۔