سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلے میں قتل کے ایک جھوٹے اور کمزور مقدمے میں گزشتہ 22 برسوں سے قید اڑیسہ کے رہائشی ارجن جانی کو مکمل طور پر بری کر دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے پولیس کی ناقص تفتیش، ناقابلِ اعتماد عینی شاہدین اور عدالتی سسٹم کی شدید بے حسی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ بنچ نے اپنے تاریخی ریمارکس میں کہا کہ انصاف تک رسائی آج بھی ہندوستانی معاشرے کے محروم اور غریب طبقات کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، اور قانونی نظام کی تاخیر و لاپروائی کسی بے گناہ کی پوری زندگی کو نگل لیتی ہے۔
جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ ارجن جانی 22 سال تک ایک ایسے جرم کی سزا بھگتتے رہے جس کا ان کے خلاف کوئی سچا یا قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں تھا۔ عدالتی بنچ نے اڑیسہ ہائی کورٹ کے طرزِ عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جس نے اپیل دائر کرنے میں 3157 دن کی تاخیر کو بنیاد بنا کر مقدمے کی سماعت سے انکار کر دیا تھا۔ عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ جب ہائی کورٹ نے اپیل مسترد کی، اس وقت بھی ملزم 12 سال جیل میں کاٹ چکا تھا اور بعد میں مزید 10 سال اسے پسِ دیوارِ زنداں رہنا پڑا، جو کہ آئینی حقوق اور بنیادی انسانی انصاف کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
سپریم کورٹ نے آئینی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت ملک کے ہر شہری، بالخصوص غریب، مظلوم اور محروم طبقات کو انصاف فراہم کرنا ریاست اور آئینی عدالتوں کا اولین فرض ہے۔ بنچ نے قرار دیا کہ تکنیکی تاخیر کو کسی شہری کی شخصی آزادی چھیننے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ ٹرائل کورٹ اور پولیس کے کردار کا احاطہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ پولیس نے محض شک کی بنیاد پر گرفتاری کی، تحویل کے دوران غیر قانونی اور تھرڈ ڈگری طریقے اپنائے اور زبردستی اعترافی بیان حاصل کیا۔ ٹرائل کورٹ نے بھی شواہد کے معروضی تجزیے کے بغیر سزا سنا دی جو کہ انصاف کے تمام اصولوں کے منافی تھا۔
استغاثہ کا پورا مقدمہ ایک ایسے عینی شاہد کے بیان پر کھڑا تھا جس کی گواہی میں کھلے تضادات اور ناقابلِ قبول خامیاں موجود تھیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اگرچہ ایک گواہ کی بنیاد پر بھی سزا دی جا سکتی ہے، لیکن اس کے لیے گواہی کا غیر متزلزل، منطقی اور سچا ہونا لازمی ہے۔ تین خواتین کے قتل جیسے سنگین کیس میں بھی پولیس معقول شک و شبہ سے بالاتر جرم ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کے تمام فیصلوں کو منسوخ کرتے ہوئے ارجن جانی کی فوری رہائی کا حکم دیا۔
علاوہ ازیں، سپریم کورٹ نے ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی، کوراپٹ (اڈیشہ) کو باضابطہ ہدایت دی ہے کہ وہ 22 سال بعد آزاد ہونے والے ارجن جانی کی بازآبادکاری، روزگار اور سماجی بحالی کے لیے فوری اقدامات کرے تاکہ وہ باقی ماندہ زندگی میں دوبارہ معمول کے مطابق سانس لے سکیں۔ یہ فیصلہ ملک کے عدالتی نظام، قانونی امداد کی سہولیات اور پولیس اصلاحات کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے، جو یہ واضح کرتا ہے کہ ضعیف اور محروم طبقات کے انسانی حقوق کا تحفظ کس قدر ضروری ہے۔



