مدارس میں ‘وندے ماترم’ گانے سے کوئی آسمان نہیں گر پڑے گا: کلکتہ ہائی کورٹ کا زبانی تبصرہ

کلکتہ ہائی کورٹ نے منگل کے روز ایک عوامی مفاد کی عرضی (PIL) پر سماعت کے دوران زبانی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر مدارس میں قومی گیت ‘وندے ماترم’ کے تمام چھ بند گائے جاتے ہیں تو اس سے "کوئی آسمان نہیں گر پڑے گا”۔ کارگزاری چیف جسٹس تاپابرت چکرورتی اور جسٹس پارتھ سارتھی سین پر مشتمل بینچ مغرب بنگال کی ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اس نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کر رہی تھی، جس میں اقلیتی امور اور مدرسہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت ان تمام اداروں میں وندے ماترم گانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

سماعت کے دوران بینچ نے زبانی طور پر سوال اٹھایا کہ اگر کسی شخص کو کسی ایسے قول یا گیت کو دہرانے کے لیے کہا جائے جو اس کے مذہب سے تعلق نہیں رکھتا، تو کیا اس سے اس کی دینی شناخت ختم ہو جاتی ہے؟ عدالت عالیہ نے دیگر مذہبی برادریوں کے زیرِ انتظام چلنے والے تعلیمی اداروں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں عیسائی اسکولوں میں تمام طلبہ سے دعائیں کروائی جاتی ہیں، لیکن کیا وہاں کسی مخصوص برادری کے طلبہ اس بات پر سوال اٹھاتے ہیں؟

عرضی گزار کے کونسل نے عدالت کے سامنے دلیل دی کہ آئینی حیثیت کے اعتبار سے قومی ترانہ (جنا گنا منا) قومی گیت (وندے ماترم) سے اعلیٰ مقام رکھتا ہے، اس لیے وندے ماترم کی خواندگی کو جبر کے ساتھ لازمی نہیں بنایا جا سکتا۔ اس پر قائم مقام چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ کیا ریاستی حکومت نے اس نوٹیفکیشن پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں کسی کے خلاف کوئی تادیبی یا سخت قدم اٹھایا ہے؟ عدالت نے وضاحت کی کہ جب تک کوئی جبری یا تادیبی کارروائی سامنے نہ آئے، اس وقت تک اسے محض خدشات کی بنیاد پر حتمی لزوم کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

ریاستی حکومت کی نمائندگی کرنے والے ایڈیشنل سلیسیٹر جنرل نے اس معاملے میں اپنا موقف واضح کرنے اور تفصیلی حلف نامہ داخل کرنے کے لیے عدالت سے وقت مانگا۔ انہوں نے کہا کہ محض اندیشوں اور مفروضوں کی بنیاد پر اسٹے یا حکمِ امتناعی کی مانگ نہیں کی جا سکتی۔

مغرب بنگال کے اسکولوں اور مدارس میں روایتی طور پر صبح کی اسمبلیوں کے دوران قومی ترانہ گایا جاتا رہا ہے۔ وندے ماترم 1875 میں بنکم چندر چٹرجی نے سنسکرت زبان میں تحریر کیا تھا اور یہ آزادی کی تحریک کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ آئین ساز اسمبلی نے ‘جنا گنا منا’ کو قومی ترانے کے طور پر قبول کیا تھا جبکہ وندے ماترم کو قومی گیت کا درجہ دیا گیا تھا۔ تاہم، آئین کے دفعات میں بنیادی طور پر قومی ترانے کا ذکر ملتا ہے۔ اس قانونی اور آئینی پہلو کے پیشِ نظر عدالت کا حتمی فیصلہ آنے والے حلف نامے اور اگلے مرحلے کی سماعت پر منحصر ہوگا۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے حال ہی میں پارلیمنٹ سے منظور ہونے والی اس قانون سازی پر سخت تشویش ظاہر کی ہے، جس کے تحت وندے ماترم کی توہین کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ بورڈ نے اسے دستورِ ہند کے سیکولر مزاج، مذہبی آزادی اور شہری حقوق سے متصادم قرار دیتے ہوئے حکومت سے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی مخصوص مذہبی تصور یا علامت کو قانونی جبر کے ذریعے تمام شہریوں پر لازم کرنا آئین کی روح کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق دستور ساز اسمبلی نے بھی وندے ماترم کے صرف ابتدائی دو بندوں کو قومی سطح پر قبول کیا تھا، جبکہ بعد کے بندوں میں موجود مذہبی مضامین کو اس کی وجہ سے سرکاری حیثیت نہیں دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ وندے ماترم کے بعض حصوں میں وطن کو دیوی کے روپ میں پیش کرکے اس کی وندنا کی گئی ہے، جو اسلامی عقیدۂ توحید سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اس لیے کسی مسلمان کو اپنے مذہبی عقیدے کے برخلاف ایسے گیت یا عمل میں شریک ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

ڈاکٹر الیاس نے آئین کی دفعہ 25 اور دفعہ 19 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو مذہبی آزادی اور ضمیر کے مطابق اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے تاریخی مقدمہ Bijoe Emmanuel بنام ریاستِ کیرالہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ اگر کسی شخص کا مذہبی عقیدہ اسے قومی ترانے میں شرکت سے روکتا ہو تو احترام کے ساتھ خاموش رہنا بھی اس کا آئینی حق ہے اور اسے اس بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وطن سے محبت اور وطن کی عبادت دو الگ تصورات ہیں۔ مسلمانوں کی حب الوطنی غیرمتنازع ہے، لیکن ان کے مذہبی عقیدے کے خلاف کسی علامت یا گیت کو قانونی طور پر لازم قرار دینا آئینی آزادیوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ بورڈ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مذہبی حساسیت رکھنے والے معاملات کے بجائے بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم، صحت اور معاشی مسائل جیسے عوامی امور پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔

شیئر کریں۔