تعلیم کا مقصد صرف ڈگری نہیں، اچھا انسان بنانا ہے ، یاسین محتشم میموریل لیکچر‘‘ میں انسان سازی پر زور

بھٹکل: بھٹکل کے محبوب اور ممتاز ماہرِ تعلیم مرحوم جناب یاسین محتشم (یاسین سر) کی یاد میں محتشم اکیڈمی کے زیرِ اہتمام "The Inaugural Yaseen Mohtisham Memorial Lecture” کا انعقاد کیا گیا، جس میں شہر کی ممتاز تعلیمی، سماجی اور علمی شخصیات، مرحوم کے شاگردوں، اساتذہ اور اہلِ خانہ نے شرکت کی۔ یہ پروگرام مرحوم کی پہلی برسی کے موقع پر ان کی تعلیمی خدمات، وژن اور انسان سازی کے مشن کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کیا گیا۔ اس تقریب کا مقصد مرحوم یاسین محتشم کے تعلیمی ورثے کو نئی نسل تک منتقل کرنا اور ان کے افکار کو زندہ رکھنا تھا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی جناب مجاہد الاسلام (EdTech Specialist، Azim Premji University) نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ تعلیم کا اصل مقصد صرف ڈگری یا روزگار حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک اچھا انسان بنانا ہے، اور یہی وصف مرحوم یاسین سر کی شخصیت میں بدرجۂ اتم موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ یاسین سر ہمیشہ اس فکر میں رہتے تھے کہ قوم کے نونہالوں کو صحیح سمت ملے تاکہ وہ تعلیمی میدان میں ترقی کریں اور معاشرے کے لیے مفید انسان بنیں۔ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ طلبہ صرف تعلیم یافتہ نہ ہوں بلکہ اپنے علم سے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچانے والے بنیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسان دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے، لیکن اس کے کردار، خدمات اور اچھے اوصاف زندہ رہتے ہیں۔ زندہ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے افراد کی خوبیوں کو اپنانے کی کوشش کریں اور ان کے نقشِ قدم پر چلیں۔ انہوں نے نوجوانوں اور طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے قیمتی اوقات کو ضائع کرنے کے بجائے علم، کردار سازی اور سماجی خدمت کے لیے استعمال کریں، کیونکہ یہی تعلیم کی اصل روح ہے۔
جلسے کی صدارت جناب قیصر محتشم نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ یاسین سر کے انتقال کے بعد بظاہر ایسا محسوس ہوا جیسے ایک چراغ بجھ گیا ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نیک انسان کبھی مکمل طور پر رخصت نہیں ہوتے۔ ان کے چھوڑے ہوئے افکار اور تربیت سے کئی نئے چراغ روشن ہوتے ہیں جن کی روشنی دور دور تک پھیلتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کی خدمات کو قلم بند کرنے اور نئی نسل تک پہنچانے کا مقصد یہی ہے کہ نوجوان ان کی زندگی سے سبق حاصل کریں اور قوم و ملت کی خدمت کا جذبہ اپنے اندر پیدا کریں۔
اس موقع پر اعلان کیا گیا کہ مرحوم جناب یاسین محتشم کی حیات، تعلیمی خدمات اور فکری سفر پر مشتمل ایک جامع کتاب جلد منظرِ عام پر آئے گی، جس کے لیے باقاعدہ ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جاچکی ہے۔ منتظمین کے مطابق یہ کتاب آنے والی نسلوں کے لیے ایک اہم دستاویز ثابت ہوگی۔
پروگرام کا آغاز مولانا سید سالک احمد برماور ندوی کی تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا، جبکہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ بھی پیش کی گئی۔ استقبالیہ کلمات جناب غسان چامنڈی نے پیش کیے۔ تقریب کی نظامت جناب ضوریز مشائخ نے انجام دی۔ اس موقع پر جناب محمد باپو باشاہ صاحب، جناب سعد اللہ رکن الدین سمیت متعدد معزز شخصیات، اساتذہ، طلبہ بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ مرحوم یاسین محتشم، جنہیں پورا بھٹکل محبت سے "یاسین سر” کے نام سے جانتا تھا، دو دہائیوں سے زائد عرصے تک تعلیمی میدان میں سرگرم رہے۔ انہوں نے محتشم اکیڈمی کے ذریعے ہزاروں طلبہ کی علمی رہنمائی کی اور بعد ازاں انجمن حامیٔ مسلمین کے تعلیمی اداروں میں اکیڈمک کوآرڈینیٹر اور مشیر کی حیثیت سے بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی منفرد تدریسی صلاحیت، طلبہ کی ذہنی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ اور جدید تعلیمی فکر نے انہیں بھٹکل کی علمی دنیا کا ایک معتبر نام بنا دیا تھا۔ گزشتہ سال ان کے اچانک انتقال کو پورے شہر نے ایک ناقابلِ تلافی تعلیمی نقصان قرار دیا تھا۔

شیئر کریں۔