متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کے چھوٹے بھائی اور دبئی پولیس و پبلک سیکیورٹی کے نائب سربراہ شیخ احمد بن راشد آل مکتوم پیر کی صبح انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کے فوری بعد دیوانِ حاکمِ دبئی نے باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے امارت بھر میں دس روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے، جس دوران تمام سرکاری و نجی عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رکھے جائیں گے۔
شیخ احمد بن راشد جدید دبئی کے معمار اور متحدہ عرب امارات کے بانی رہنماؤں میں شمار ہونے والے مرحوم شیخ راشد بن سعید آل مکتوم کے چوتھے اور سب سے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے اپنے چھوٹے بھائی کی وفات پر انتہائی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی وسیع رحمتوں میں جگہ دے اور جنت الفردوس کا مکین بنائے۔ انہوں نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ احمد اگرچہ اب نگاہوں سے اوجھل ہو چکے ہیں لیکن وہ ہمیشہ دلوں اور دعاؤں میں زندہ رہیں گے۔
مرحوم نے برطانیہ کی مشہور رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ سے عسکری تعلیم و تربیت مکمل کی اور وطن واپسی پر دفاعی شعبے سے وابستہ ہو کر دبئی کی سینٹرل ملٹری کمانڈ کی سربراہی سنبھالی۔ انہوں نے طویل عرصے تک دبئی پولیس اور پبلک سیکیورٹی کے ڈپٹی چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور امارت میں امن و امان اور دفاعی صلاحیتوں کو مستحکم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
عسکری خدمات کے ساتھ ساتھ مرحوم کا نام متحدہ عرب امارات کے کھیلوں کی تاریخ میں سنہری حروف سے درج ہے۔ وہ ملک کے معروف فٹ بال کلب ‘الوصل’ کے دیرینہ صدر اور سب سے بڑے سرپرست رہے، جس کی وجہ سے کلب کے شائقین میں انہیں روحانی باپ کا درجہ حاصل تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے گھڑ سواری اور ہارس ریسنگ کے فروغ کے لیے جبل علی ریس کورس کی بنیاد رکھی اور ان کے اصطبل کے زرد و سیاہ رنگوں والے گھوڑوں نے عالمی ریسوں میں درجنوں فتوحات حاصل کیں۔ انہوں نے اسی کی دہائی کے اختتام پر دبئی انٹرنیشنل میرین اسپورٹس کلب کی بنیاد رکھ کر واٹر اسپورٹس کو بھی عالمی سطح پر متعارف کرایا۔
امارات کی قیادت، خلیجی تعاون کونسل کے ارکان اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے آل مکتوم شاہی خاندان سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔ مرحوم کی تدفین اور نمازِ جنازہ کے بعد سرکاری سطح پر تعزیتی مجالس کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جس میں اعلیٰ حکومتی، عسکری اور عوامی شخصیات شرکت کر رہی ہیں۔



