کاروار (فکروخبرنیوز) سمندری طوفان (سائیکلون) اور ناگہانی آفات سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے اور متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کرناٹک، گوا اور مہاراشٹر میں مشترکہ طور پر یکم اکتوبر کو ایک وسیع پیمانے پر بین ریاستی سائیکلون ڈسائسٹر مینجمنٹ موک ڈرل انعقاد پذیر ہو رہی ہے۔ اس سلسے میں اتر کنڑا کی ضلعی انتظامیہ نے تمام ضروری تیاریاں اور انتظامات شروع کر دیے ہیں۔
کاروار میں واقع ڈپٹی کمشنر دفتر میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی رابطہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ساجد ملا نے تمام شعبہ جات کے حکام کو ہدایت دی کہ وہ موک ڈرل سے متعلق تمام ضروری پیشگی انتظامات وقت پر مکمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اہم مشق قومی آفات سماوی انتظامیہ (NDMA) اور مرکزی وزارتِ داخلہ کی ہدایات پر انجام دی جا رہی ہے۔ اس مشق کا بنیادی مقصد طوفانی آفت کے دوران تمام سرکاری محکموں کو ایک ہی کمانڈ اسٹرکچر کے تحت لا کر ہنگامی امدادی کارروائیوں، جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کرنے اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بین ریاستی موک ڈرل کرناٹک، گوا اور مہاراشٹر کے کل 24 اہم مقامات پر ایک ساتھ منعقد کی جائے گی۔ اتر کنڑا ضلع میں یہ مشق ساحلی اور حساس علاقوں یعنی کاروار، انکولہ، کمٹہ، ہوناور، گوکرنا اور بھٹکل میں انجام دی جائے گی۔ اس ہنگامی مشق میں پیشگی تیاری، عوامی تحفظ، متاثرہ علاقوں سے انخلاء، بحالی، امدادی کارروائیاں اور طبی سہولیات کی فراہمی جیسے تمام مراحل کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس کے دوران قومی آفات سماوی انتظامیہ کے شعبہ آپریشنز کے ریٹائرڈ کمانڈنٹ آدتیہ کمار نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے تمام افسران کو موک ڈرل کے قواعد، طریقہ کار اور ذمے داریوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس جائزہ اجلاس میں ضلع پنچایت کے ڈپٹی سکریٹری پرکاش ہالامناور، کرمس (KRIMS) کے ڈاکٹر وجئے راج، ڈی ایس پی گریش سمیت محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی، انڈین نیوی، اسٹیٹ ڈسائسٹر ریسپانس فورس (SDRF) اور دیگر اہم محکموں کے ذمہ داران موجود تھے۔




