مغربی بنگال کے سیاسی منظرنامے میں غیر قانونی تارکینِ وطن اور بنگلہ بھاشی شہریوں کی شناختی کارروائیوں کا موضوع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ ہندوستانی شہریوں اور خاص طور پر اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے بنگلہ زبان بولنے والے افراد کی بغیر جائز تصدیق سرحد پار ڈی پورٹیشن کے سنگین الزامات کے درمیان اہم سیاسی بیان سامنے آیا ہے۔ مغربی بنگال کے وزیراعلی شوبھیندو ادھیکاری نے واضح کیا ہے کہ ریاست میں بغیر دستاویزات رہنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور انہیں واپس بھیجنے کا عمل جاری رہے گا، تاہم سنالی خاتون جیسے انسانی حقوق کی شدید پامالی پر مبنی واقعات کا اعادہ نہ ہو، اس کے لیے حکومتی سطح پر پوری احتیاط برتی جائے گی۔
یہ پورا تنازعہ بیربھوم کی رہائشی سنالی خاتون اور ان کے آٹھ سالہ معصوم بچے کو ہندوستانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر غیر قانونی تارکِ وطن قرار دے کر جبری طور پر بنگلہ دیش کی سرحد میں دھکیل دینے کے بعد سامنے آیا تھا۔ سنالی خاتون اس وقت حاملہ تھیں اور ان کی حالت انتہائی نازک تھی۔ اس انسانی بحران کا نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ کی سخت مداخلت کے بعد مرکزی حکومت نے انہیں انسانی بنیادوں پر دسمبر 2025 میں واپس بھارت لانے کی اجازت دی تھی۔ اس ہولناک واقعے نے بھارت میں بنگالی بولنے والے اقلیتی شہریوں کے تحفظ، شہری اسناد کی جانچ کے طریقہ کار اور سرحدی فورسز کے یکطرفہ اقدامات پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے تھے۔
شبھیندو ادھیکاری نے اپنے بیان میں زور دیا کہ ریاست میں کسی بھی حقیقی ہندوستانی شہری کو پریشانی یا خوف کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مبینہ غیر قانونی دراندازوں کو بنگلہ دیش واپس بھیجنے کا عمل قانونی ضوابط کے تحت ہی انجام دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ریاست میں حراستی مراکز (ہولڈنگ سینٹرز) قائم کیے گئے ہیں جہاں سے گزشتہ ماہ کے دوران ہزاروں مبینہ دراندازوں کو واپس بھیجنے اور مزید سیکڑوں کو ڈی پورٹ کرنے کے لیے حراست میں رکھنے کے ارادے ظاہر کیے گئے ہیں۔
یہ کارروائیاں ایسے وقت میں تیز ہوئی ہیں جب مختلف ریاستوں میں بنگالی بولنے والے شہریوں—جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے—کو محض زبان اور لباس کی بنیاد پر مشکوک سمجھ کر ان سے شہریت کے ثبوت مانگے جا رہے ہیں۔ متعدد ایسے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جہاں بھارتی شہریوں کو محض قانونی طریقہ کار کی عدم پیروی اور غلط فہمی کی بنا پر زبردستی سرحد پار بھیج دیا گیا، اور بعد میں ریاستی حکام کے ذریعے ان کی بھارتی شہریت ثابت ہونے پر انہیں واپس لایا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس طرح کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے منافی قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی اور قومی سطح پر انسانی حقوق کے اصول یہ تقاضا کرتے ہیں کہ شہریت کی جانچ اور ڈی پورٹیشن کا طریقہ کار مکمل طور پر شفاف، منصفانہ اور قانون کے مطابق ہو۔ کسی بھی شخص کو محض شکوک و شبہات کی بنیاد پر یا عدالتی چارہ جوئی کے حق سے محروم کر کے جبری طور پر بے دخل کرنا آئینی و بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ مغربی بنگال میں موجودہ سیاسی بیانیے کے بیچ یہ دیکھنا بے حد اہم ہوگا کہ حکومت کس حد تک ہندوستانی شہریوں کے حقوق کی حفاظت اور شفاف قانونی عمل کو یقینی بناتی ہے۔




