منگلورو (فکروخبر نیوز / ایجنسیاں) : ساحلی کرناٹک کے ضلع دکشن کنڑ اور منگلورو میں مسلسل موسلادھار بارش اور تیز ہواؤں نے معمولِ زندگی درہم برہم کر دیا ہے۔ رات بھر ہونے والی شدید بارش کے باعث کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے، جبکہ ندی نالوں میں طغیانی سے نشیبی علاقے، زرعی زمینیں اور متعدد سڑکیں زیرِ آب آ گئی ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ نے نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (NDRF) اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (SDRF) کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے اور ریسکیو ٹیمیں مختلف مقامات پر تعینات کر دی گئی ہیں۔
مغربی گھاٹ کے کیچمنٹ علاقوں میں ہونے والی شدید بارش کے نتیجے میں نیتروتی، کمار دھارا، مرتونجیا، پھالگونی (گوروپورا) اور سوموتی سمیت اہم ندیاں خطرے کے نشان کے قریب یا اس سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے بعد ندی کنارے آباد بستیوں اور نشیبی علاقوں کے مکینوں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
بیلتھنگڈی تعلقہ میں منڈاجے-دھرمستھلا روٹ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہو گیا ہے۔ نیریا میں حفاظتی دیوار گرنے سے کئی مکانات میں پانی داخل ہو گیا، جبکہ پتر بائل اور لیلا کے مقام پر ندی کا پانی سڑکوں پر آنے سے بیلتھنگڈی-کلورو روڈ پر آمدورفت معطل ہو گئی ہے۔ منڈاجے اور اوجیرے میں سپاری کے باغات، زرعی اراضی اور متعدد رہائشی مکانات بھی پانی میں ڈوب گئے ہیں، جس سے مقامی لوگوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
ضلعی آفت بندوبست اتھارٹی (DDMA) نے تمام تعلقہ ہیڈکوارٹرس میں چوبیس گھنٹے فعال کنٹرول روم قائم کر دیے ہیں۔ انتظامیہ نے شہریوں، سیاحوں اور زائرین کو ندیوں، زیرِ آب سڑکوں اور سمندری ساحلوں سے دور رہنے کی سخت ہدایت دی ہے۔ سمندر میں تیز ہواؤں اور بلند لہروں کے باعث ماہی گیروں کو بھی سمندر میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔ چارماڈی، شراڈی اور سمپاجے گھاٹ کے حساس راستوں پر جے سی بی مشینیں اور ہنگامی عملہ تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث جمع ہونے والا ملبہ فوری ہٹا کر آمدورفت بحال رکھی جا سکے۔




