بہار میں این ای ای ٹی (NEET) پیپر لیک کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے درج کیے گئے مقدمات اور نامزدگیوں کے شفاف ہونے پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ ایک چونکا دینے والے واقعے میں ضلع کشن گنج سے تعلق رکھنے والے محمد صداقت نامی نوجوان کے خلاف پولیس نے احتجاج میں ملوث ہونے کا مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ وہ گزشتہ چار ماہ سے ہندوستان میں موجود ہی نہیں ہیں اور روس میں مقیم ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں محمد صداقت نے اپنے خلاف درج مقدمے پر گہری تشویش اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بہار پولیس اور مقامی انتظامیہ سے اپنا نام منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے۔ روس سے جاری کیے گئے اس ویڈیو پیغام میں صداقت نے واضح کیا کہ وہ گزشتہ چار مہینوں سے بیرونِ ملک رہ رہے ہیں اور چوبیس جولائی کو بہار میں ہونے والے کسی بھی مظاہرے میں ان کی شمولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے بہادر گنج پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے درخواست کی کہ وہ حقیقت کا جائزہ لیں اور کیس کی فہرست سے ان کا نام فوری طور پر خارج کریں۔
یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بہار پولیس کی جانب سے این ای ای ٹی پیپر لیک کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طلباء اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں پر بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا گیا تھا۔ پچیس جولائی کو بہار بند کے دوران پولیس نے چھ سو چورانوے افراد کو حراست میں لیا تھا، جن میں سے تین سو انتالیس نابالغوں کو بعد میں رہا کر دیا گیا جبکہ تین سو پچپن افراد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت کیس درج کر کے مقدمہ چلانے کی تیاری کی جا رہی تھی۔ تاہم، طلبہ تنظیموں کے شدید دباؤ کے بعد بہار حکومت نے تمام درج مقدمات واپس لینے اور گرفتار افراد کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔
محمد صداقت کے اس انکشاف نے پولیس کی تفتیشی صلاحیت اور بغیر تصدیق کے بے گناہوں کو کیسز میں نامزد کرنے کے طریقہ کار کو بے نقاب کر دیا ہے۔ قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے دور دراز مقیم شہریوں کو محض قیاس آرائیوں کی بنیاد پر سنگین مقدمات میں گھسیٹنا نہ صرف انتظامی لاپرواہی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ شہریوں کی شخصی آزادی اور بنیادی حقوق پر بھی ضرب لگاتا ہے۔
اگرچہ حکومت نے تمام مقدمات واپس لینے کا نوٹس جاری کیا ہے، لیکن محمد صداقت کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے فہرست سازی کے عمل میں سنگین غلطیاں کی گئیں سیاسی اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کارروائیوں میں شفافیت لائی جائے تاکہ آئندہ کسی بھی شہری کو بلاوجہ قانون کی پیچیدگیوں اور ذہنی اذیت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔




