راجیہ سبھا میں ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کے درمیان ‘وندے ماترم ترمیمی بل 2026’ پاس ، اپوزیشن کا واک آؤٹ

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران راجیہ سبھا (ایوانِ بالا) نے بدھ کے روز ایک انتہائی متنازعہ قانون سازی کرتے ہوئے ‘پریوینشن آف انسلمٹس ٹو نیشنل آنر (امینڈمنٹ) بل 2026’ (قومی وقار کی توہین کی روک تھام کا ترمیمی بل) منظور کر لیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت قومی گیت ‘وندے ماترم’ کی کسی بھی قسم کی توہین یا بے احترامی کو قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے، جس کی پاداش میں تین سال تک کی قید با مشقت اور جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔ بل کی منظوری کے وقت ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی اور اپوزیشن اراکین نے وزیر داخلہ امت شاہ کی غیر موجودگی کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

ایوان کی کارروائی کے آغاز سے ہی اپوزیشن جماعتوں نے مختلف اہم قومی مسائل، بالخصوص دارالحکومت میں این ای ای ٹی (NEET) پیپر لیک کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے طلباء پر پولیس تشدد اور طاقت کے استعمال کے معاملے پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی ایوان میں موجودگی اور جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ کارروائی میں مسلسل خلل اور نعرے بازی کے باعث ایوان کو دو بار ملتوی کرنا پڑا۔ بعد ازاں دوپہر کے سیشن میں جب ڈپٹی چیئرمین ہرگونش نے ایوان میں نامزد فہرست کے مطابق قانون سازی کا عمل شروع کرایا تو اپوزیشن اراکین نے دوبارہ نعرے بازی شروع کر دی اور وزیر داخلہ کو ایوان میں بلانے کے اپنے مطالبے پر ڈٹے رہے۔

جب یونین منسٹر آف اسٹیٹ رام داس اٹھاولے نے بل کے حق میں بولنا شروع کیا تو اپوزیشن اراکین نے حکومت کے آمرانہ رویے اور تعلیمی و آئینی مسائل پر عدم توجہی کے خلاف احتجاجاً راجیہ سبھا سے واک آؤٹ کر دیا۔ اپوزیشن کی عدم موجودگی میں بحث کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیا نند رائے نے کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں پر شدید تنقید کی اور ان پر تسکینِ باہمی کی سیاست کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وندے ماترم کی مخالفت کرنا قومی وقار کی توہین کے مترادف ہے اور یہ قانون ‘ایک بھارت، شریسٹھ بھارت’ کے وژن کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے۔

اس ترمیمی بل کے ذریعے قومی ترانے ‘جنا گنا منا’، قومی پرچم اور آئینِ ہند کو حاصل قانونی تحفظ کی طرز پر ہی ‘وندے ماترم’ کو بھی یکساں قانونی تحفظ فراہم کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ بل وندے ماترم کی ۱۵۰ ویں سالگرہ کی مناسبت سے پیش کیا گیا ہے۔ تاہم، اقلیتی برادریوں اور مسلم تنظیموں کی جانب سے اس قسم کے اقدامات پر پہلے بھی تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، کیونکہ عقیدے اور توحید کے دینی اصولوں کے تحت بعض اشعار کے عقیدت مندانہ استعمال پر مذہبی بنیادوں پر شدید تحفظات موجود رہے ہیں، اور اس کو جبراً نافذ کرنے کو بنیادی مذہبی آزادی (آرٹیکل 25) پر اثر انداز ہونے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

قانون سازوں اور آئینی ماہرین کے ایک طبقے نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ایسے قوانین کا استعمال اقلیتوں، اختلافِ رائے رکھنے والوں اور شہریوں کے خلاف ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر کیے جانے کا اندیشہ رہے گا۔ جمہوریت میں قومی علامتوں کا احترام دل سے ہوتا ہے نہ کہ جبر یا سزا کے خوف سے۔ ایوان میں اپوزیشن کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھا کر بنا تفصیلی بحث اور بغیر اقلیتی حساسیت کا خیال رکھے بل کی منظوری نے پارلیمانی جمہوریت کے کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بل کی منظوری کے بعد راجیہ سبھا کی کارروائی کو جمعرات کی صبح ۱۱ بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ حکومت کے اس اقدام کے خلاف قانونی اور سیاسی سطح پر آنے والے دنوں میں مزید تکرار اور عوامی بحث تیز ہونے کا قوی امکان ہے۔

شیئر کریں۔